صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 989 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 989

صحیح البخاری جلد ۱۹ ٩٨٩ ۹۷- كتاب التوحيد اتنی قیمت ہے کہ خدا کی پاکی پر جہاں جہاں نظر پڑتی ہے میں وہاں وہاں اپنے وجود کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے، اس وجود کو بھی پاک کرتا چلا جاتا ہوں۔تو دراصل یہ لا الہ کا سفر ہے۔سبحان اللہ اللہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے جو بھی ہے ناپاک ہے اور خدا نا پاک نہیں ہے اس لئے ظاہر بات ہے کہ ہر ناپاکی کالعدم ہے اس کی حیثیت ہی کوئی نہیں رہتی۔اس کو مٹا دینا ضروری ہے۔وہ بے وجہ ، بے حق، ناحق بیٹھی ہوئی ہے وہاں اور لا الہ اس طرح انسان کے دل پر جاری ہوتا ہے اس کے اعمال میں جلوے دکھاتا ہے اور سبحان اللہ کا مضمون وزن اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔تو تقيلتان فی المیزان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ہلکے چھلکے کھلے نہیں ہیں۔منہ سے تم نے چھوٹی سی بولی لگا دی ہے۔اس کے پیچھے بڑا وزن ہے۔غیر معمولی بہت ہی بھاری مضمون ہے جو تم بیان کر رہے ہو اور یہ مضمون جتنا بھاری ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی خدا کو پسند آتا چلا جاتا ہے۔حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ یہ دونوں کلے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتے چلے جاتے ہیں اور یہ کلمہ کہنے والا اتنا ہی زیادہ اللہ کا قریب ہوتا ہے ، اس کا محبوب بنتا چلا جاتا ہے۔دوسرا حصہ ہے سُبحان اللہ العظیم کہ اللہ عظیم ہے۔عظمت کا مضمون حمد سے تعلق رکھتا ہے۔پس جہاں سُبحان الله وبحمدِہِ میں حمد کہہ کر ایک دروازہ کھولا گیا ہے کہ صرف سبحان اللہ نہیں کہنا بلکہ حمد بھی کرنی ہے۔وہاں سُبحانَ اللهِ العَظِیمِ نے وہ حمد کا ایک لامتناہی سلسلہ آپ کے سامنے کھول کے رکھ دیا ہے۔ایک ایسی دنیا میں آپ کو لے جاتا ہے۔سُبحان اللہ العظیم کا کلمہ کہ جہاں ہر طرف حمد ہی حمد ہے۔مگر ان دونوں میں ایک فرق ہے۔سبحان کے ساتھ حمد کا تعلق ہے، سبحان کا مضمون جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی حمد کا مضمون ساتھ ساتھ پیدا ہو تا چلا جاتا ہے اور یہاں تک کہ آپ کی دنیا صرف حمد کی دنیارہ جاتی ہے اور وہ دنیا جس کا ذکر ہے سُبحان اللہ العظیم میں۔لفظ عظیم میں جو عظمت پائی جاتی ہے وہ لفظ اعظم میں نہیں پائی جاتی۔عظیم ایک ایسے وجود کو کہتے ہیں جو اپنی ذات میں ہر صفت میں ایک ایسی شان رکھتا ہو کہ اس کی عظمت سے گویا ساری کائنات بھر گئی ہے اور ہر بری چیز کے مقابل پر جو اچھی صفت ہے وہ اس