صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 988
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۸۸ ۹۷- كتاب التوحيد کیا تھا اور ساری زندگی اس تلاش میں رہے کہ کوئی ذرہ بھی ایسا نہ ہو جو خدا تعالیٰ کے عظمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرے دل کی دنیا کو اس لائق نہ ٹھہرائے کہ اس میں خدا تعالی جلوہ گر ہو۔یہ آنحضرت علی ایم کی ایک سوچ تھی۔جو آپ کی ساری زندگی میں ہر طرف ہمیں آپ کے اقوال سے بھی اور آپ کے اعمال سے بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔سبحان اللہ کا یہ معنی پھر بنتا ہے کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے نفس کو پاک کرتے چلے جانا کیونکہ ناپاک جگہ پر پاک وجود نہیں آیا کرتے۔پس اللہ کے لئے دل کی صفائی کرنا ان معنوں میں ہو کہ کچھ جگہ تھوڑی سی اب صاف کر لی کچھ بعد میں اور ہمیشہ جگہ کی صفائی جاری رہے۔بعض دفعہ اچانک مہمان آجاتے ہیں تو انسان کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ سارا گھر ایک دم صاف کر سکے تو تھوڑی سی جگہ بنا لیتے ہیں۔بھاگ دوڑ کر بچے بھی حصہ لیتے ہیں مائیں بھی، سب دوڑتے ہیں کہ ایک کمرہ ہی جلدی سے صاف کر لو اور اس کے جو گندے کپڑے اور سامان جو وہاں بکھرے ہوتے ہیں سب اٹھا اٹھا کر ایک کمرے میں پھینک دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو جب مہمان بنانا ہے تو انبیاء کا مقام تو بلند ہے اور محمد رسول اللہ صلی ا کرم کا تو بہت بلند تر تھا لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہمیں بھی کچھ نہ کچھ سبحان کا مضمون اپنے نفس میں جاری کرنا ہو گا تھوڑی سی جگہ بنالیں اور واقعہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ پاک آدمی پاک جگہ پر بیٹھتا ہے، پاک جگہ کو پسند کرتا ہے یہ درست ہے مگر یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر اس گھر میں اور کوئی گندی جگہ ہو گی تو وہ اس گھر کو چھوڑ کر چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ وہ اپنے بندے کی ایک تھوڑی سی جگہ بھی اگر صاف دیکھے تو اس جگہ سے تعلق جوڑ لیتا ہے اور پھر اس کے قرب کا احساس ارد گرد کے ماحول کو پاک صاف کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور رفتہ رفتہ گھر صاف ہونے لگتا ہے۔تو جتنا سبحان اللہ کا مضمون ذہن میں وسعت اختیار کرے اور جتنا یہ آپ کی دنیا کے عمل میں ڈھلتا چلا جائے اتنا ہی اس مضمون میں وزن پیدا ہو تا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت صلی علیکم جب سبحان اللہ کہتے تھے تو آپ کا سارا وجود گواہ تھا کہ میں واقعہ اللہ تعالیٰ کو پاک سمجھتا ہوں۔اتنے یقین کے ساتھ پاک سمجھتا ہوں اور پاکی کی میری نظر میں