صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 987 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 987

صحيح البخاری جلد ۱۶ ٩٨٧ ۹۷- كتاب التوحيد پوری طرح ایک معاملے کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے کہ صرف آخرت کے دن ہی حساب کتاب ہو گا۔وہ حساب کتاب ہو چکا ہو گا صرف اس کے نتیجے ظاہر کئے جائیں گے۔حساب کتاب تو روز روز ساتھ ساتھ ہو رہا ہوتا ہے، اسی حساب کتاب کے نتیجے میں ہماری روح، جہنمی بن رہی ہوتی ہے یا جنتی بن رہی ہوتی ہے۔پس سَرِيعُ الْحِسَاب (البقرہ:۲۰۳) کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ انتظار نہیں کرتا بہت لمبے عرصے ، حساب کا، ساتھ ساتھ ایک حساب کا نظام جاری و ساری ہے اور انسان کی روح پر نیک اثرات بھی مرتب ہو رہے ہوتے ہیں، بد اثرات بھی مترتب ہو رہے ہوتے ہیں اور جو اس کا عمل ہے وہ اپنے ساتھ نتیجے پیدا کرتے چلا جاتا ہے۔پس وہ ٹکڑی کے دو تھال ہیں جس کے اوپر وزن رکھا جاتا ہے مراد یہ ہے کہ ان کو نیچا بھی کرتا ہے اور اونچا بھی کرتا ہے۔ارادہ نہیں بلکہ فیصلہ فرماتا ہے ایسا کہ جن کے نتیجے میں بعض اعمال بے وزن دکھائی دینے لگتے ہیں اور بعض اعمال باوزن دکھائی دینے لگتے ہیں اور اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اٹھایا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ ہر رات کی صف لیٹنے کے ساتھ ہی اس رات میں جو بھی اعمال ہوئے ہیں ان سب کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ یہ اعمال کس نوعیت کے تھے ، کیا ان کی حیثیت ہے، ایسا کرنے والے سے کیا سلوک ہونا چاہئے اور ساتھ ہی دن کے اٹھنے سے پہلے دن کے حسابات بھی سارے طے ہو چکے ہوتے ہیں۔“ (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده یکم دسمبر ۱۹۹۵، جلد ۱۴ صفحه ۹۰۵،۹۰۴) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: سبحان الله وبحمدِهِ، سُبحان الله العظیم پر ہی غور کریں تو جتنا آپ اس میں ڈوبتے چلے جائیں گے اتنا ہی مضمون اور گہرا ہوتا دکھائی دے گا بلکہ محسوس ہو گا۔جتنا اس مضمون میں سفر کریں اتنا یہ مضمون پھیلتا چلا جاتا ہے۔سبحان اللہ کا مطلب ہے کہ اللہ پاک ہے۔اور کس کس چیز سے پاک ہے۔اس پر غور کریں تو پھر تسبیح ہو گی ورنہ خالی زبان سے کہہ دینے سے بات بنے گی نہیں۔وزن ان میں پیدا ہوتا ہے مگر ہر قاری کے لحاظ سے مختلف وزن پیدا ہوتا ہے۔جب آنحضرت صلی للی و یکم سبحان اللہ کہتے تھے۔تو ایک عام قاری کی طرح سبحان اللہ نہیں کہتے تھے بلکہ ساری زندگی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے سے پاک