صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 986 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 986

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۸۶ ۹۷ - كتاب التوحيد وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْقُسْطَاسُ الْعَدْلُ اور مجاہد نے کہا: القسطاس رومی زبان میں بِالرُّومِيَّةِ وَيُقَالُ الْقِسْطُ مَصْدَرُ ترازو کی ڈنڈی کو کہتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ الْمُقْسِطِ وَهُوَ الْعَادِلُ وَأَمَّا الْقَاسِطُ القِسْطُ الْمُقْسِط کا مصدر ہے جس کے معنی فَهُوَ الْجَائِرُ۔عادل کے ہیں اور القاسط کا لفظ جو ہے تو اس کے معنی ہیں راستی سے ایک طرف ہٹنے والا۔٧٥٦٣: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابِ ۷۵۶۳: احمد بن اشکاب نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ عَنْ عُمَارَةَ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمارہ بن بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي قعقاع سے ، عمارہ نے ابوزرعہ سے ، ابوزرعہ نے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَتَانِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ خَفِيفَتَانِ عَلَى دو کلمے رحمان کو بہت ہی پیارے ہیں، زبان پر النِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ ہلکے ہیں، میزان میں بھارے ہیں۔وہ ہیں: سُبحان الله وبحمده سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ - یعنی اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔پاک ہے اللہ جو بہت عظمت والا ہے ، پاک ہے أطرافه: ٦٤٠٦، ٦٦٨٢ - اللہ اپنی تعریف کے ساتھ۔شريح۔قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَنَضَحُ الْمَوَازِينَ الْقسط لِيَوْمِ القِيمة الله تعلی کا یہ فرمانا اور ہم قیامت کے دن ایسے تول کے سامان ( یعنی پورا تو لنے والے سامان ) پیدا کریں گے۔حضرت خلیفۃ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ وہ تکڑی کے پلڑوں کو نیچا بھی کرتا ہے اور اونچا بھی کرتا ہے۔قشط معنی انصاف۔تو مراد ہے کہ ٹکڑی کے دو پلڑے ہوتے ہیں۔کوئی پلڑا نیچا ہو جاتا ہے کوئی اوپر چلا جاتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں یہاں مراد ہے کہ اعمال کا وزن کرتا ہے وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کے اعمال ہلکے ہیں اور کس کے بھاری ہیں، کس کے قابل قدر ہیں کس کے رڈ کے لائق ہیں۔ویرفع الیہ عمل اللیل قبل عمل العھار۔پیشتر اس کے کہ دن کے اعمال شروع ہوں رات کے اعمال کا حساب لے لیا جاتا ہے۔یعنی یہ خیال بھی