صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 985
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۸۵ ۹۷ - كتاب التوحيد العرب کے نام سے مشہور تھے۔ یہود میں بھی یہ طبقہ ساحرین کا پایا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے بھی ان کا ذکر آیت اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوتِ وَ يَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا (النساء:۵۲) میں کیا ہے ۔ جنت کے معنی ہیں السِّحْرُ وَالسَّاحِ وَالسَّاحِرُ الَّذِي لَا خَيْرَ فِيهِ (اقرب الموارد - جبت) جادو اور جادو گر جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ طاغوت فن جادوگری کا دوسرا نام تھا اور یہودیوں میں بھی سحر کاری بہت رائج تھی جیسے مشرکین کے مذہبی سرداروں میں۔ آنحضرت صلی الہ ہم مشرکین اور یہود دونوں کا جادو توڑنے میں کامیاب ہوئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جادو گر ہر ملک میں اپنی سحر کاری کے لئے ویرانوں و گنجان جنگلوں میں اپنا ٹھکانہ بناتے اور اس سے انسانوں کی قوت متخیلہ و واہمہ کو مرعوب و متاثر کرتے تھے۔ ( صحیح بخاری ترجمہ و شرح کتاب بدء الخلق، باب صِفَةُ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ، جلد 4 صفحہ ۱۱۳) لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ : وہ (قرآن) اُن کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ حاکم نے ایک روایت حضرت ابو سعید خدری سے بیان کی ہے کہ تم قرآن سیکھو اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو، قبل اس کے کہ ایک ایسی قوم قرآن سیکھے جو اس ،جو اس کے ذریعہ سے دنیا طلب کرے۔ قرآن کریم تین طرح کے لوگ سیکھتے ہیں: ایک وہ جو اس کے ذریعہ فخر کرتا ہے۔ ایک وہ جو اس کے ذریعہ مال طلب کرتا ہے۔ اور ایک وہ جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر پڑھتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۲۶) باب ٥٨ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيمَةِ (الانبياء : ٤٨) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور ہم قیامت کے دن ایسے تول کے سامان (یعنی پورا تو لنے والے سامان ) پیدا کریں گے وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَنُ۔ اور یہ کہ بنی آدم کے اعمال اور ان کے اقوال وزن کئے جائیں گے۔ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "کیا تو نے اُن کی طرف نظر نہیں دوڑائی جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا وہ بتوں اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور اُن لوگوں کے متعلق جنہوں نے انکار کیا کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلک کے لحاظ سے ایمان لانے والوں سے زیادہ درست ہیں۔“