صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 984
صحيح البخاری جلد ۱۹ ۹۸۴ ۹۷- كتاب التوحيد يَعُودَ السَّهُمُ إِلَى فُوقِهِ قِيلَ مَا پھر وہ اس دین میں واپس نہیں آئیں گے یہاں سِيمَاهُمْ قَالَ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ أَوْ تک کہ تیر بھی اپنے چلہ کی طرف لوٹ آئے۔آپ سے پوچھا گیا: ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کی نشانی سر منڈوانا یا فرمایا: تسبیدر قَالَ التَّسْبِيدُ۔أطرافه: ٣٣٤٤، ٣٦١٠، ٤٣٥١ ، ٤٦٦٧ ٥٠٥٨، ٦١٦، ٦٩٣١، ٦٩٣٣، ٧٤٣٢-۔قِرَاءَةُ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلَاوَتُهُمْ لَا تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ۚ ناجر اور منافق کا قرآن پڑھنا اور ان کی آوازیں اور ان کا پڑھنا ان کے حلقوں کے نیچے آگے نہیں گزرے گا۔زیر باب حدیث میں تلاوت قرآن کریم کو پھل کے ذائقہ اور خوشبو دونوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔گویا تلاوت کرنے والا ہر دو برکات پانے والا ہے۔اسے تلاوت کے نتیجے میں وہ لذت بھی ملے گی جو ایمان کا خاصہ ہے۔اور خوشبو بھی ملے گی جو ایمان کی علامت ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: سنگترہ کے ساتھ مثال دینے کی حکمت یہ ہے کہ یہ وہ پھل ہے جس میں ذائقہ بھی ہے اور اس میں خوشبو بھی ہے۔سنگتروں کے بیجوں کا غلاف سفید ہے جو مومن کے دل کے مشابہ ہے اور سنگتروں کے بہت فوائد ہیں جو طب کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ان میں سے بعض یہ ہیں کہ سنگترہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کا رس دماغ کی کار کردگی میں اضافہ کرتا ہے وغیرہ۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۸۴) سَأَلَ أُناس النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَهَانِ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْءٍ: کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بلیسی صفت تمام لوگ شیطان کے مظہر ہیں اور ان میں سے ایک بڑا گر وہ وہ ہے جو جادوگروں اور کاہنوں کے نام سے مشہور ہے۔تاریخ ادیانِ قدیمہ سے متعلق علماء یورپ وغیرہ نے بڑی تحقیق کر کے ضخیم اور قابل قدر کتابیں تصنیف کی ہیں۔ان کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ اس گروہ کا نہ صرف قدیم مصر اور صحرائے افریقہ کے دور و نزدیک علاقوں کے قدیم باشندوں ہی کے مذہبی عقائد پر تسلط تھا۔بلکہ ایشیا کے طول و عرض پر اس گروہ کا جادو بھوت کی طرح سروں پر سوار تھا۔دور جانے کی ضرورت نہیں خود ہندوستان میں اب تک مشرک اقوام کے پنڈت پروہتوں کا منتر جنتر چلتا ہے اور ازمنہ قدیمہ سے دین سحری (جادوگری) مشرکانہ عقائد اور بد رسوم و عادات قبیحہ کا بہت بڑا گہوارہ رہا ہے۔آنحضرت علی ایم کے زمانے میں بھی یہ گروہ پایا جاتا تھا اور مشرکین کے کاہن طواغیت