صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 982
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۸۲ ۹۷ - كتاب التوحيد باب ٥٧ قِرَاءَةُ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلَاوَتُهُمْ لَا تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ فاجر اور منافق کا قرآن پڑھنا اور ان کی آوازیں اور ان کا پڑھنا ان کے حلقوں کے نیچے آگے نہیں گزرے گا ٧٥٦٠: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ :۷۵۶۰ بُد بہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ أَنَسٌ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت انسؓ نے ہمیں بتایا۔حضرت انس نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، حضرت مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ابوموسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا کی۔آپ نے فرمایا: اس مؤمن کی مثال جو قرآن طَيِّبٌ وَالَّذِي لَا يَقْرَأُ كَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے ، مزہ اس کا اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہے اور جو قرآن نہیں پڑھتا اس طَبْ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ اچھا ہے اور الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ اس کی خوشبو قطعاً نہیں اور فاجر کی مثال جو قرآن رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ پڑھتا ہے نیاز بو کی سی ہے اس کی خوشبو اچھی ہے ا الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ اور اس کا مزا کڑوا ہے اور اس فاجر کی مثال جو الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا۔قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزہ کڑوا ہے اور اس کی خوشبو بھی کوئی نہیں۔أطرافه: ٥٠٢٠، ٥٠٥٩، ٥٤٢٧۔٧٥٦١: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ۷۵۶۱: علی نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيّ ح و بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری سے حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا روایت کی۔نیز احمد بن صالح نے مجھ سے بیان کیا عَنْبَسَةٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ کہ عنبہ نے ہمیں بتایا۔یونس نے ہم سے بیان کیا۔