صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 981
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۸۱ ۹۷- كتاب التوحيد نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علم فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے۔اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسی علیہ السلام کی تصویر ہے۔پس اس غرض سے اور اس حد تک میں نے اس طریق کے جاری ہونے میں مصلیا خاموشی اختیار کی۔وانما الاعمال بالنیات۔اور میرا مذہب یہ نہیں ہے کہ تصویر کی حرمت قطعی ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرقہ جن حضرت سلیمان کے لئے تصویریں بناتے تھے اور بنی اسرائیل کے پاس مدت تک انبیاء کی تصویریں رہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تصویر تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی تصویر ایک پارچہ ریشمی پر جبرائیل علیہ السلام نے دکھلائی تھی۔اور پانی میں بعض پتھروں پر جانوروں کی تصویریں قدرتی طور پر چھپ جاتی ہیں۔اور یہ آلہ جس کے ذریعہ سے اب تصویر لی جاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایجاد نہیں ہوا تھا اور یہ نہایت ضروری آلہ ہے جس کے ذریعہ سے بعض امراض کی تشخیص ہو سکتی ہے ایک اور آلہ تصویر کا نکلا ہے جس کے ذریعہ سے انسان کی تمام ہڈیوں کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور وجمع المفاصل و نقرس وغیرہ امراض کی تشخیص کے لئے اس آلہ کے ذریعہ سے تصویر کھینچتے ہیں اور مرض کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ایسا ہی فوٹو کے ذریعہ سے بہت سے علمی فوائد ظہور میں آئے ہیں۔چنانچہ بعض انگریزوں نے فوٹو کے ذریعہ سے دنیا کے کل جانداروں یہاں تک کہ طرح طرح کی ٹڈیوں کی تصویریں اور ہر ایک قسم کے پرند اور چرند کی تصویریں اپنی کتابوں میں چھاپ دی ہیں۔جس سے علمی ترقی ہوئی ہے۔پس کیا گمان ہو سکتا ہے کہ وہ خداجو علم کی ترغیب دیتا ہے وہ ایسے آلہ کا استعمال کرنا حرام قرار دے جس کے ذریعہ سے بڑے بڑے مشکل امراض کی تشخیص ہوتی ہے اور اہل فراست کے لئے ہدایت پانے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۶۵ تا ۳۶۷)