صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 980 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 980

صحیح البخاری جلد ۱۶ 91- ۹۷- كتاب التوحيد کے مطابق فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔اور دوسری جگہ فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ۷۰) جو لوگ خدا میں ہو کر خدا کے پانے کے واسطے تڑپ اور گدازش سے کوشش کرتے ہیں۔ان کی محنت اور کوشش ضائع نہیں جاتی اور ضرور ان کی راہبری اور ہدایت کی جاتی ہے۔جو کوئی صدق اور خلوص نیت سے خدا کی طرف قدم اُٹھاتا ہے خدا تعالیٰ اس کی طرف راہ نمائی کے واسطے بڑھتا ہے۔انسان کا فرض ہے کہ تدبر کرے اور حق طلبی کی سچی تڑپ اور پیاس اپنے اندر پیدا کرے۔“ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۵۶۸٬۵۶۷) إنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذِّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن سزادی جائے گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔نہ انسانی لباس میں اور نہ پر دوں وغیرہ کی صورت میں۔خصوصاً بڑی تصویریں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا۔ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۳۸۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہو گا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اول خواہشمند ہوتے ہیں جو اُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے۔اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب۔اور وہ لوگ باعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہذا اس ملک کے اہل فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں