صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 979
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷۹ ۹۷- كتاب التوحيد پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پُر کو اکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قوی کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اور کسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیوں کر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَتهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا (الشمس ۱۱،۱۰) یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلی رذائل اور اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد رہے گا ما حصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔“ نیز آپ نے فرمایا: توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۲ تا ۸۴) اگر چہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے مگر کوشش کرنا انسان کا فرض ہے۔جیسا کہ قرآن شریف نے صراحت سے حکم دیا ہے کہ لیس للانسان الا ما سعى (النجم : ۴۰) یعنی انسان جتنی جتنی کوشش کرے گا اسی