صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 978
صحيح البخاری جلد ١٦ أَوْ شَعِيرَةً۔ طرفه: ٥٩٥٣۔ ۹۷۸ ۹۷- كتاب التوحيد ہی بنائیں۔ تشريح : وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ : حالانکہ اللہ نے ہی تم کو بھی پیدا کیا ہے ؟ ی پیدا کیا ہے اور تمہارے عمل کو بھی۔ علماء نے یہ بحث کی ہے کہ کیا انسان اپنے عمل کا خالق ہے یا اللہ انسانی اعمال کا خالق ہے اور اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بھی اور تمہارے اعمال کا بھی خالق ہے۔ علماء اس میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو خالق کل ہے اور اس کے بنائے ہوئے نظام قدرت اور قانونِ قدرت سے تمام مخلوقات اور ان کے متعلقہ تمام امور انجام پذیر ہوتے ہیں اور ہر عمل کا نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے انسانوں کی تخلیق اور اس کے عمل کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ جیسا کہ روایت نمبر ۷۵۵۲ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اعْمَلُوا فكل ميسر عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر شخص کو سہولتیں دی گئی ہیں۔ اس لیے انسان قوانین قدرت کے اندر رہتے ہوئے اپنے اعمال وافعال میں آزاد ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ جل شانہ فرماتا ہے : فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُولُهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسْهَا (الشمس: ۹ تا ۱۱) یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں جو شخص ظلمت اور فجور یعنی بدکاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتا ہے یہاں تک کہ اندھیری رات سے اس کی سخت مشابہت ہو جاتی ہے اور بجز معصیت اور بدکاری اور پر ظلمت خیالات کے اور کسی چیز میں اس کو مزہ نہیں آتا۔ ایسے ہی ہم صحبت اس کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایسے ہی شغل اس کے جی کو خوش کرتے ہیں اور اس کی بد طبیعت کے مناسب حال بدکاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی ہر وقت بد چلنی اور بد معاشی کے ہی خیالات اس کو سوجھتے ہیں کبھی اچھے خیالات اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے رہتے ہیں یعنی خدائے تعالی اس کے دلی نور کو جو تخم کی طرح اس کے دل میں موجود ہے اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک