صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 73 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 73

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳ ٨٠ - كتاب الدعوات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کی تکلیف سے اور الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ۔ قَالَ بدعتی میں گرفتار ہونے سے اور بری تقدیر سے اور سُفْيَانُ الْحَدِيثُ ثَلَاثَ زِدْتُ أَنَا دشمنوں کی ہنسی سے پناہ مانگتے تھے۔ سفیان نے اسی سند سے) کہا کہ اس حدیث میں تین باتیں وَاحِدَةً لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ۔ تھیں، ایک میں نے بڑھائی۔ میں نہیں جانتا کہ ان طرفة: ٦٦١٦ - میں سے وہ کونسی ہے۔ تشريح : التَّعَوُّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ : مصیبت کی تکلیف سے پناہ ما پناہ مانگنا۔ بعض شارحین نے جہد البلاء سے ہر وہ شدید تکلیف مراد لی ہے جو کسی انسان کو پہنچتی ہے، جسے نہ تو برداشت کرنے کی اُس میں طاقت ہو اور نہ ہی وہ اُسے دُور کر سکے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ایسی تکلیف ہے جس پر کوئی موت کو ترجیح دے۔ علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان باتوں سے پناہ مانگنا اپنی امت کو ان مصائب و شدائد سے بچانے کے لیے تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کی تائید مسدد کی روایت سے ہوتی ہے جس میں ذکر ہے کہ آپ نے صحابہ کو اس دعا کو کرنے کی تلقین کی ہے۔ (فتح الباری جزءا اصفحہ ۱۷۹،۱۷۸) باب ۲۹ دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا: اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملانا ٦٣٤٨ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ ۶۳۴۸: سعید بن غفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے مجھ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ - فِي کی کہ سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے مع رِجَالٍ مِّنْ أَهْلِ الْعِلْمِ - أَنَّ عَائِشَةَ کچھ اور علماء کے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللہ عنہا بیان کرتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ جَبکہ آپ تندرست تھے فرمایا کرتے تھے کبھی کسی ا۔ (صحیح البخاری، کتاب القدر، باب من تعوذ بالله من درك الشقاء، روایت نمبر ۶۶۱۶)