صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 72 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 72

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲ ٨٠ - كتاب الدعوات السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ بڑی بادشاہی کا رب ہے، اس اللہ کے سوا کوئی الْكَرِيمِ۔ وَقَالَ وَهْبٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ معبود نہیں جو ان آسمانوں کا رب ہے اور اس زمین عَنْ قَتَادَةَ۔۔ مِثْلَهُ۔ کا رب ہے اور عزت والی بادشاہی کا رب ہے۔ اور وہب نے کہا: شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح ہمیں بتایا۔ أطرافه: ٦٣٤٥، ٧٤٢٦، ٧٤٣١۔ تشریح : الدُّعَاءُ عِندَ الْكَرْبِ: گھبراہٹ کے وقت دعا کرنا۔ انگرب کے معنی ہیں ایسا ہم وغم ونفس کو لاحق ہو۔ کو لاحق ہو جاتا ہے۔ (أقرب ! ب الموارد، کرب) علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ اس سے ۔ و مراد ایسی پریشانی ہے جو آدمی کو غم و حزن میں مبتلا کر دے۔ (فتح الباری جزءا ا صفحہ ۱۷۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلِ الله يُنَجِّيَكُمْ مِنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبِ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُونَ ) ( الأنعا كون (الأنعام:۶۵) یعنی " کہہ دے اللہ ہی ہے جو تمہیں اس سے بھی نجات بخشتا ہے اور ہر بے چینی سے بھی۔ پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو ۔“ (ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت میں یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اصل میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی ذات اور رب العالمین کے سامنے جھکنا ہی تھا۔ ہو سکتا ہے کہ روایت کرنے والے نے بعض خاص حالات میں زیادہ شدت سے آپ کو کسی وقت یہ دعا کرتے دیکھا ہو اور اس کا اظہار ہوا ہو۔ تو بہر حال یہ ایک جامع دعا ہے جو ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رب کی صحیح پہچان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۸، دسمبر ۲۰۰۶، جلد ۴ صفحه ۶۱۸) باب ۲۸ : التَّعَوُّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ مصیبت کی تکلیف سے پناہ مانگنا ٦٣٤٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۳۴۷ : علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سُمَيٌّ عَنْ أَبِي کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ سمی نے مجھ صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ سے بیان کیا۔ شمی نے ابو صالح سے ، ابو صالح نے