صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 74
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۴ ۸۰ - كتاب الدعوات صَحِيحٌ لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٍّ قَطُّ حَتَّى نبی کی وفات نہیں ہوئی جب تک کہ وہ جنت میں يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ اپنے ٹھکانے کو نہیں دیکھ لیتا۔پھر اس کو اختیار دیا فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي جاتا ہے۔جب آپ کو بیماری کی شدت ہوئی۔اور غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ آپ کا سر میری ران پر تھا تو تھوڑی دیر تک آپ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ بے ہوش رہے۔پھر آپ نے ہوش سنبھالا اور الرَّفِيقَ الْأَعْلَى قُلْتُ إِذَا لَّا يَخْتَارُنَا آپ نے چھت کی طرف ٹکٹکی لگائی۔پھر فرمایا: اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے پاس۔میں نے کہا: تب آپ ہم میں رہنا پسند نہیں کرتے اور میں نے جان لیا کہ یہ وہی بات ہے جو آپ ہمیں بتایا کرتے تھے تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا اللَّهُمَّ جبکہ آپ تندرست تھے۔فرماتی تھیں: یہی آپ کی آخری بات تھی جو آپ نے کی۔یعنی اے اللہ ! وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثْنَا وَهُوَ صَحِيحٌ قَالَتْ فَكَانَتْ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى۔رفیق اعلیٰ کے پاس۔أطرافه ٤٤٤٣٥ ٤٤٣٦ ، ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣، ٤٥٨٦، ٦٥٠٩- تشريح: دُعَاءُ النَّبِيِّ ﷺ اللَّهُمَّ الرَّفِيق الأعلى بن صلی الہ علیہ سلم کایہ دعا کرتا اے اللہ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملانا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع فرماتے ہیں: حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے وقت بار بار یہ الفاظ ادا کئے اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرَّفِينِ الْأَعْلى اے میرے اللہ ! اب تو میں رفیق اعلیٰ میں ڈوبنے کی تمنار کھتا ہوں، تُو میرا وہ اعلیٰ دوست ہے ، اعلیٰ لذات کے مضمون پر غور کریں۔یہ وہی مضمون ہے اعلیٰ لذات والا کہ دنیا میں بھی رفیق تھے جو تیری وجہ سے پیارے لگتے تھے۔مگر وہ سارے تیرے مقابل پر ادنی رفیق ہیں۔ان کے تعلق کی لذتیں تیری لذت کے مقابل پر ادنی کہلاتی ہیں، ادنی کہلائیں گی ادنی ہیں۔ایک ہی ہے جو رفیق اعلیٰ ہے جس کے ساتھ رفاقت کی سب سے اعلیٰ لذتیں وابستہ ہیں۔پس اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلى اے خدا میں تیری ذات میں لوٹ کر تجھ میں ڈوب جانا چاہتا ہوں۔یہ ہے مرجع تام یعنی با شعور خدا کی طرف لوٹنے کی تمنا پید اہو اور اس کے پیچھے