صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 68
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۸ ۸۰- كتاب الدعوات نگرانی کرتا اور غورو پرداخت کرتا رہتا ہے۔اور اس طرح پر وہ وقت آجاتا ہے کہ جب اس کو پھل لگتا ہے اور وہ پک بھی جاتا ہے۔یہی حال دعا کا ہے اور بعینہ اسی طرح دعا نشو و نما اور مثمر بثمرات ہوتی ہے۔جلد باز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مال اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پالیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۹۴،۶۹۳) باب ۲۳: رَفْعُ الْأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ دعا میں ہاتھ اُٹھانا وَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَسلم نے دعا کی۔پھر آپ نے اپنے ہاتھ بھی اُٹھائے وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ۔اور میں نے آپ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی۔وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي نے اپنے ہاتھ اُٹھائے اور دعا کی: اے اللہ ! میں أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ۔تیرے حضور اس کام سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جو خالد نے کیا۔٦٣٤١: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ :۶۳۴۱: ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: اور الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (عبد العزیز بن عبد اللہ اویسی کہتے تھے کہ مجھے عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَشَرِيكَ سَمِعَا محمد بن جعفر نے یحی بن سعید اور شریک (بن أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الله ) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ان رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ۔دونوں نے حضرت انسؓ سے سنا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اپنے أطرافه: ١٠٣١، ٣٥٦٥۔دونوں ہاتھ اتنے اُٹھائے کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سپیدی دیکھی۔