صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 67
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۷ ۸۰ - كتاب الدعوات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دعا کے لئے سب سے اول اس امر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اللہ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہو گا۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی کہ جب مقصد کا شگوفہ سر سبز ہونے کے قریب ہوتا ہے، دعا کرنے والے تھک گئے ہیں۔جس کا نتیجہ ناکامی اور نامرادی ہو گیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہنچایا کہ دعا کی تاثیرات کا انکار شروع ہوا، اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خدا کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعاؤں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعائیں کی گئی کیوں کر قبول نہ ہوئیں ؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلون کو سوچے تو اُسے معلوم ہو جائے که ساری نامرادیاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔پس کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔دعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے۔اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا۔اس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشو و نما پا کر پھل لائے گا۔باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بننے لگتا ہے اور تیار ہو تا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا سبزہ اوپر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔اب دیکھو وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا۔دراصل اسی ساعت سے وہ پودا بننے کی تیاری کرنے لگ گیا تھا۔مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی اور اب جبکہ اس کا سبزہ باہر نکل آیا تو سب نے دیکھ لیا۔لیکن ایک نادان بچہ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا۔وہ یہ چاہتا ہے، کیوں اسی وقت اس کو پھل نہیں لگتا۔مگر عقلمند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کونسا موقع ہے۔وہ صبر سے اس کی