صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 66
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۶ ٨٠ - كتاب الدعوات حالات میں شک کے الفاظ میں دعا کرنا جائز نہیں مگر یہ عدم جواز اسی صورت میں ہے کہ دعا کرنے والا عدم یقین یا عدم توجہ کی وجہ سے ایسا طریق اختیار کرے لیکن اگر وہ الاعدم یا عدم وجہ سے ایسا خاص حالات میں توجہ اور یقین کے مقام پر قائم رہتے ہوئے پھر کسی معاملہ میں اپنے فیصلہ کو خدا پر چھوڑ دے اور اس کی وجہ سے اس کی حالت میں بے اعتمادی یا بے توجہی یا عدم یقین کا رنگ پیدا نہ ہو بلکہ تو کل علی اللہ اور تفویض الی اللہ کا رنگ ہو تو ایسی صورت میں اس طریق پر دعا کرنا بھی نا جائز نہیں ہو گا۔“ (سیرت خاتم النبیین ملی ، صفحہ ۸۲۷ تا ۸۲) باب ۲۲ : يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَعْجَلْ بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشر طیکہ وہ جلدی نہ کرے ٦٣٤٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۳۴۰ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ ابن شہاب نے ابو عبید سے جو (عبدالرحمن) بن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ ازہر کے غلام تھے، ابو عبید نے حضرت ابوہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ سے روایت کی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ دَعَوْتُ فَلَمْ فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی کی دعا دعا قبول ہوگی ہو گی بشرطیکہ ما يُسْتَجَبْ لِي۔ وہ جلدی نہ کرے۔ یعنی یہ (نہ) کہے کہ میں نے تو دعا کی پر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ تشريح : يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَعْجَل : بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے۔ کرے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے راض ر صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دعا میں لمبے صبر و استقلال کی ضرورت ہوتی ہے اور جو انسان جلد بازی سے کام نہیں لیتا وہ بالآخر اپنی دعا کا پھل ضرور حاصل کر لیتا ہے۔ ہاں اگر وہ خود تھک کر یہ کہنے لگ جائے کہ میں نے تو بہت دعائیں کر کے دیکھ لیا ہے خدا نے میری کوئی نہیں سنی اور پھر وہ اس خیال کے ماتحت دعا چھوڑ بیٹھے تو ایسے شخص کی دعا واقعی قبول نہیں ہوتی۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی ال ، صفحہ ۸۲۶)