صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 65 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 65

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اس خواہش کو انتہاء تک پہنچا دے۔نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ سے عظیم اور بڑی چیز کی دعا کرے کیونکہ اس کے سامنے تو کوئی چیز بھی بڑی نہیں ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ (۱۲۸) اور علامہ ابن اثیر نے لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تجد فيها ويقطعها (النهاية في غريب الحديث والأثر، عزم) یعنی اس کے متعلق کوشش اور جد و جہد کرے اور اُسے قطعی اور یقینی بنادے۔وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ : اور یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے۔کیونکہ کوئی اُس کو زبر دستی نہیں منوا سکتا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری ارشاد علم النفس کے ایک بھاری اور پختہ اصول پر مبنی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دعا کے لئے توجہ اور انہماک اور استغراق کی کیفیت ضروری ہے اور یہ کیفیت اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے کہ جب دعا کرنے والا عزم اور یقین کے ساتھ ایک بات پر قائم ہو کر کسی چیز کا سوال کرے، لیکن اگر وہ اس قسم کے الفاظ کہے کہ خدایا تو اگر چاہے تو میر کی یہ بات مان لے تو اس صورت میں اس کے اندر کبھی بھی وہ توجہ اور وہ استغراق کا رنگ پیدا نہیں ہو سکتا جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہر حال خدا انسان کے ماتحت تو ہے نہیں کہ ہر چیز جو انسان مانگے تو وہ ضرور اسے دے دے اور انکار کی طاقت نہ رکھتا ہو بلکہ وہ ایک حکمران خدا ہے اور اپنے مصالح کے ماتحت قبول کرنے اور رڈ کرنے ، ہر دو کی طاقت رکھتا ہے تو پھر انسان کیوں اپنے دل میں ایک شک کی حالت پیدا کر کے اس عزم اور توجہ اور استغراق کے مقام سے متزلزل ہو جو سوال میں کشش اور قوت جذب پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔اس اصول کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ أَنَا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِی ہی۔یعنی خدا فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جس طرح کا گمان رکھتا ہے میں اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں۔یہ نکتہ بھی بے شمار کامیابیوں کی کلید ہے مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔بہر حال دعا کے لئے عزم اور یقین کی کیفیت ضروری ہے اور عام (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب ۱۵، روایت نمبر ۷۴۰۵)