صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 64 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 64

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۴۴ ٨٠ - كتاب الدعوات باب ۲۱ : لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ سنجیدگی اور وثوق سے مانگے جو مانگے کیونکہ اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں ٦٣٣٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ :۶۳۳۸: مد دنے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ ( بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز (بن عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ صہیب نے ہمیں خبر دی۔ عبدالعزیز نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمِ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: الْمَسْأَلَةَ وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو پھر سنجیدگی اور وثوق سے فَأَعْطِنِي فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ۔ طرفه: ٧٤٦٤- مانگے اور یہ نہ کہے: اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے دے۔ کیونکہ کوئی اُس کو زبردستی نہیں منوا سکتا۔ ٦٣٣٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۶۳۳۹: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یوں نہ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمِ کہے: اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ سنجیدگی اور وثوق سے الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ۔ طرفه: ٧٤٧٧- تو مانگے کیونکہ اُس کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں۔ تشریح : لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَة: سجید گی اور وثوق سے مانگ جو مانگے۔ امام راغب بیان کرتے ہیں کہ عزم کے معنی ہیں کسی کام کو کرنے کے لیے دل کا پختہ ارادہ (المفردات فی غریب القرآن، عزم ) علامہ داودی بیان کرتے ہیں کہ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَة کے معنی ہیں: پوری جد و جہد اور الحاح و اصرار سے دعا کرے اور مشقی کرنے والے کی طرح یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے ، بلکہ محتاج فقیر کی طرح دعا مانگے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۹۹) علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَة سے مراد ہے کہ الحاج کے ساتھ دعا کو بار بار مانگے اور اپنی