صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 63
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۳ ۸۰ - كتاب الدعوات فَتَقُصُّ عَلَيْهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ میں مشغول ہوں اور تم انہیں اپنی باتیں سنانے لگ حَدِيثَهُمْ فَتُمِلُّهُمْ وَلَكِنْ أَنْصِتْ فَإِذَا جاؤ اور اُن کی بات کو کاٹ دو اور ان کے اکتانے کا أَمَرُوكَ فَحَدِتْهُمْ وَهُمْ يَشْتَهُونَهُ موجب بنو بلکہ خاموشی سے ان کی باتیں سنو۔جب فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ وہ تمہیں کہیں تو پھر اُن سے وعظ و نصیحت کر وایسی حالت میں کہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔دیکھنا! فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ دعا میں قافیہ بندی سے بچنا، اس سے ہمیشہ پر ہیز عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا کرتے رہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ اس سے ذَلِكَ اللِاجْتِنَاب۔اجتناب ہی کیا کرتے تھے۔تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّجْع في الدُّعَاءِ: دعا مں قافیہ بندی جو مکروہ ہے۔نفع ایسے کلام کو کہتے ہیں جو ایک طر ز یا ایک وژن پر ہو۔اس سے سَجَعَتِ الْحَمامَةُ ہے یعنی کبوتر نے اپنی آواز کو دہرایا۔ازہری نے کہا ہے کہ سجع سے مراد ایسا ہم قافیہ کلام ہے جس میں (شعر کی طرح) اوزان کی رعایت نہ ہو۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں مجمع کلام کو اس لیے ناپسند فرمایا ہے کہ یہ کاہنوں کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ارادہ ایسامت کرو اور اپنے خیالات کو اس شغل میں مبتلا مت ہونے دو، کیونکہ ایسا کرنے میں تکلف ہے جو دعا میں مطلوب خشوع و خضوع کا مانع ہے۔(فتح الباری جزء ۱ صفحہ ۱۶۷،۱۶۶) علامہ عینی " کے نزدیک اگر بغیر ارادہ کے اتفاقاً دعا میں ایسے الفاظ آجائیں تو اس میں حرج نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۹۸) دعائیہ الفاظ میں تکلف اور بناوٹ منع ہے نہ کہ الفاظ کا ہم وزن اور حسن ترتیب میں ہونا کیونکہ یہ تو بلیغ کلام کا آئینہ دار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث میں اس کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں۔مثلاً آپ نے دعا کی: اللَّهُمْ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ - (صحيح البخاري، كتاب المغازی، باب غزوة الخندق، روایت نمبر ۴۱۱۵) اسی طرح ایک دعا ہے : اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنفَعُ وَمِنْ قَلْبِ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا۔(صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب التعوذ من شر ما عمل ومن شر مالم يعمل) ا ترجمہ : اے اللہ جو کتاب کو نازل کرنے والا ہے، جلدی حساب لینے والا ہے ، ان احزاب کو بھگا دے۔ترجمہ : اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو فائدہ نہ دے اور اس دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جسے قبول نہ کیا جائے۔