صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 62
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۶۲ ٨٠ - كتاب الدعوات پس انسان کو لازم ہے کہ وہ خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاس بننے کے واسطے سوچتا رہے اور مطالعہ کرتا رہے۔ جیسے طبابت میں حیلہ کام آتا ہے اسی طرح نفع رسانی اور خیر میں بھی حیلہ ہی کام دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اس تاک اور فکر میں لگار ہے کہ کس راہ سے دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۵۳،۳۵۲) اخبار البدر کے ۶ اپریل ۱۹۰۵ء کے شمارہ میں بعنوان ڈائری درج ہے کہ ”حضرت مولوی عبد الکریم صاحب به سبب کثرت پیشاب بیمار رہے۔ حضرت ( مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام) ان کا حال دریافت کرتے رہے اور فرمایا کہ ہم نے آپ کے واسطے بہت دعا کی ہے۔ اگر چہ اپنی طبیعت بھی چنداں چنداں درست نہ نہ تھی کی تاہم تا آپ کے واسطے بہت دعا کی ہے۔ مولوی صاحب نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ جناب کو عافیت دے۔ فرمایا: جب دوستوں کی تکلیف سن کر دعا میں لگ جاتا ہوں تو اس میں خود عافیت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آچکا ہے : مَنْ كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي عَوْنِی۔ یعنی جو شخص اپنے بھائی کی اعانت " میں مصروف ہوتا ہے، خدا خود اس کی اعانت کرتا ہے۔“ (البدر مورخہ ۶ ، اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۶) باب ۲۰ : مَا يُكْرَهُ مِنَ السَّجْعِ فِي الدُّعَاءِ دعا میں قافیہ بندی جو مکروہ ہے ٦٣٣٧: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ ١٣٣٧ يحي بن محمد بن سکن نے ہم سے بیان کیا بْنِ السَّكَنِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ که حبان بن ہلال ابو حبیب نے ہمیں بتایا۔ ہارون أَبُو حَبِيبٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ الْمُقْرِئُ مقری نے ہم سے بیان کیا کہ زبیر بن خریت نے حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ عِكْرِمَةَ ہمیں بتایا۔ زبیر نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہر جمعہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدِّثِ النَّاسَ ایک دفعہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کیا کرو۔ اگر تم یہ نہ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَمَرَّتَيْنِ ماتو تو پھر دو دفعہ ہی اور اگر اس سے بھی زیادہ (ہو) فَإِنْ أَكْثَرْتَ فَثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا تُمِل تو پھر تین بار۔ اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتاؤ النَّاسَ هَذَا الْقُرْآنَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي نہیں۔ اور میں تمہیں کبھی ( اس حال میں ) نہ پاؤں الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ کہ تم ایسے لوگوں کے پاس آؤ کہ وہ اپنی کسی بات