صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 61 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 61

صحیح البخاری جلد ۱۵ 1 ۸۰- كتاب الدعوات ہے۔جس میں نہ صرف زر ہوتا ہے اور نہ زور لگانا پڑتا ہے اور اس کا فیض بہت ہی وسیع ہے، کیونکہ جسمانی ہمدردی تو اس صورت میں ہی انسان کر سکتا ہے جبکہ اس میں طاقت بھی ہو۔مثلاً ایک ناتواں مجروح مسکین اگر کہیں پڑا تڑپتا ہو، تو کوئی شخص جس میں خود طاقت اور توانائی نہیں ہے ، کب اُس کو اُٹھا کر مدد دے سکتا ہے۔اسی طرح پر اگر کوئی بیکس و بے بس، بے سرو سامان انسان بھوک سے پریشان ہو تو جب تک مال نہ ہو، اس کی ہمدردی کیونکر ہوگی۔مگر دعا کے ساتھ ہمدردی ایک ایسی ہمدردی ہے کہ نہ اس کے واسطے کسی مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی طاقت کی حاجت۔بلکہ جب تک انسان انسان ہے ، وہ دوسرے کے لیے دُعا کر سکتا ہے اور اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔اس ہمدردی کا فیض بہت وسیع ہے اور اگر اس ہمدردی سے انسان کام نہ لے، تو سمجھو بہت ہی بڑا ا بد نصیب ہے۔میں نے کہا ہے کہ مالی اور جسمانی ہمدردی میں انسان مجبور ہوتا ہے مگر دُعا کے ساتھ ہمدردی میں مجبور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دُعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے۔جس قدر دعا وسیع ہو گی اس قدر فائدہ دُعا کرنے والے کو ہو گا اور دُعا میں جس قدر بخل کرے گا اُسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دُور ہو تا جاوے گا اور اصل تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ایمان بھی کمزور ہے۔دوسروں کے لئے دُعا کرنے میں ایک عظیم الشان فائدہ یہ بھی ہے کہ عمر دراز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں اور مفید وجو د ہوتے ہیں، اُن کی عمر دراز ہوتی ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) اور دوسری قسم کی ہمدردیاں چونکہ محدود ہیں، اس لیے خصوصیت کے ساتھ جو خیر جاری قرار دی جاسکتی ہے۔وہ یہی دعا کی خیر جاری ہے۔جبکہ خیر کا نفع کثرت سے ہے تو اس آیت کا فائدہ ہم سب سے زیادہ دُعا کے ساتھ اُٹھا سکتے ہیں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو دنیا میں خیر کا موجب ہوتا ہے، اس کی عمر دراز ہوتی ہے اور جو شر کا موجب ہوتا ہے ، وہ جلدی اُٹھا لیا جاتا ہے۔کہتے ہیں شیر سنگھ چڑیوں کو زندہ پکڑ کر آگ پر رکھا کرتا تھا۔وہ دوبرس کے اندر ہی مارا گیا۔