صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۱۵ ५० ٨٠ - كتاب الدعوات ٦٣٣٦: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۱۳۳۶ : حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ سلیمان (بن مہران) نے مجھے خبر أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ وی۔ سلیمان نے ابو وائل سے ، ابو وائل نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا عبد اللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ علیہ وسلم نے کوئی مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا: یہ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى تو ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مندی نہیں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ چاہی گئی۔ (یہ سن کر) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ يَرْحَمُ اللهُ و بتایا تو آپ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ میں نے مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا اس رنج کو آپ کے چہرے میں دیکھا۔ آپؐ نے فَصَبَرَ۔ فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم کرے۔ اُنہیں تو اس سے زیادہ دکھ دیا گیا تھا، انہوں نے صبر کیا۔ أطرافه: ۳۱۵۰ ، ۳۴۰۵، ٤٣٣٥ ، ٤٣٣٦ ، ٦٠٥٩ ، ٦١٠٠، ٦٢٩١۔ تشريح : قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَصَلَّ عَلَيْهِمْ ۔ وَمَنْ خَضَ أَخَاهُ بِالدُّعَاءِ دُونَ نَفْسِهِ: اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا: تو ان کے لئے دعائے رحمت کر اور جو اپنے تئیں چھوڑ کر اپنے بھائی کے لئے دعا کرے۔ عنوان باب وَصَلَّ عَلَيْهِمْ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صیغہ امر میں دوسروں کے لئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بشارت بھی دی ہے ان صلوتك سكن لَهُمْ کہ تیری دعا ان کے لئے سکینت کا باعث ہو گی۔ زیر باب روایات میں حکم الہی کی تعمیل کا عملی ثبوت عملی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ امام بخاری نے زیر باب سات مواقع کا ذکر کیا ہے کہ آپؐ نے اپنے لیے دعا کیے بغیر دوسروں کے لیے دعا کی۔ ایک اور روایت میں اس دعا کو جو دوسرے کے لئے کی جائے اسرع اجابة قرار دیا ہے۔ اس بارہ میں صحیح مسلم کی بھی ایک روایت ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ وَلَكَ مِثْل ذَلِكَ کے یعنی جو بھی مسلمان بندہ اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یاد رکھو۔ ہمدردی تین قسم کی ہے۔ اوّل جسمانی، دوم مالی، تیسری قسم ہمدردی کی دُعا (سنن الترمذي، أبواب البر والصلة، بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ الأخ لأخيه، روایت نمبر ۱۹۸۰ (صحیح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب)