صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۱۵ بِهِمْ يُذَكِّرُ : ۵۷ ٨٠ - كتاب الدعوات عامر ! اگر تم ہمیں اپنے شعر سناؤ ( تو کیا ہی اچھا ہو ) وہ اُترے اور حدی (اونٹوں کو چلانے کے لئے شعر ) گانے لگے۔ ساتھ نصیحت بھی کرتے جاتے تھے : تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہو تا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَكِنِّي لَمْ اور یزید بن ابی عبید نے) ان کے علاوہ اور أَحْفَظْهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله شعروں کا بھی ذکر کیا مگر میں نے ان کو یاد نہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّہ ہانکنے والا ہے؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع۔ آپ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں اور لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ فَلَمَّا صَافَّ الْقَوْمَ فائدہ کیوں نہ اُٹھانے دیا؟ جب لڑائی کے لئے قَاتَلُوهُمْ فَأَصِيبَ عَامِرٌ بِقَائِمَةِ سَيْفِ صفیں بندھ گئیں تو مسلمان ان سے لڑے اور عامر نَفْسِهِ فَمَاتَ فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا اپنی ہی تلوار کے پر تلے آے کی وجہ سے زخمی ہوئے نَارًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ اور وہ وفات پاگئے۔ جب لوگ شام کو آئے تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَى أَيِّ انہوں نے بہت سی آگیں جلائیں۔ رسول اللہ صلی شَيْءٍ تُوقِدُونَ قَالُوا عَلَى حُمُرِ الله علیہ وسلم نے پوچھا: یہ آگیں کیسی ہیں؟ کیا چیز إِنْسِيَّةٍ فَقَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا پکانے کے لئے تم جلا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو وَكَسِرُوهَا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا گدھوں کو پکانے کے لئے۔ آپؐ نے فرمایا: جو ان نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ہانڈیوں میں ہے اس کو انڈیل دو اور ان ان ان ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ نہیں ذَاكَ ۔ ہو سکتا جو ان ہانڈیوں میں ہے اُس کو انڈیل دیں اور ان کو دھولیں؟ آپ نے فرمایا: یہی سہی۔ أطرافه ٢٤٧٧، ٤١٩٦ ، ٥٤٩٧، ٦١٤٨، ٦٨٩١۔ ے پر تلا تلوار کا تسمہ ، بیٹی۔ (اردو لغت - پر تلا)