صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۶ ٨٠ - كتاب الدعوات ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام سے سوال ہوا کہ نماز کے بعد دُعا کرنا سنت اسلام میں ہے یا نہیں ؟ فرمایا: ہم انکار نہیں کرتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی ہو گی مگر ساری نماز دعا ہی ہے اور آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز کو جلدی جلدی ادا کر کے گلے سے اُتارتے ہیں۔ پھر دعاؤں میں اس کے بعد اس قدر خشوع خضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دو میل تک نکل جاوے۔ بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔ خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دعاما نگتے ہیں۔ اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۶۵،۲۶۴) باب ۱۹ : قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَصَلَّ عَلَيْهِمْ (التوبة: ١٠٣) اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانا: تو ان کے لئے دعائے رحمت کر وَمَنْ خَصَّ أَخَاهُ بِالدُّعَاءِ دُونَ اور جو اپنے تئیں چھوڑ کر اپنے بھائی کے لئے دعا نَفْسِهِ۔ کرے۔ وَقَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ) نے کہا: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ ! عبید کو جو عامر کا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ باپ ہے بخش دے۔ اے اللہ ! عبداللہ بن قیس کے بھی گناہ بخش۔ ٦٣٣١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۳۳۱ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی ( قطان) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے جو حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا حضرت سلمہ بن اکوع) کے غلام تھے روایت کی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى که حضرت سلمہ بن اکوٹ نے ہم سے بیان کیا۔ خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ أَيَا عَامِرُ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ فَنَزَلَ يَحْدُو کی طرف نکلے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: