صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 55 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 55

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۵ ٨٠ - كتاب الدعوات انسان چونکہ کمزور ہوتا ہے اور اس کا علم اپنے کمال تک نہیں پہنچا ہوتا اور بعض اوقات اپنی کمزوریوں اور سستیوں کی وجہ سے نماز کو کبھی وقت سے بے وقت، کبھی سے سے لئے بے توجہی سے پڑھتا ہے اور کبھی نمازوں میں اس کا خیال کہیں کا کہیں چلا جاتا اور پورا حضور قلب اور خضوع جو نماز کے ضروری ارکان ہیں ان کے ادا کرنے میں سستی ہو جاتی ہے یا نماز تدبر سے نہیں پڑھی جاتی یا کبھی اصلی لذت اور سرور سے محروم رہ جاتا ہے اور بار یک درباریک وجوہ کے باعث نماز میں کوئی نہ کوئی کمی یا نقص رہ جاتا ہے۔ اس واسطے حکم ہے کہ نماز کا سلام پھیرنے کے ساتھ ہی معاً استغفار پڑھ کر اپنی کمزوریوں اور نماز میں اگر کوئی نقص رہ گیا ہے تو اس کی تلافی خداسے چاہے اور عرض کرے کہ یا الہی ! اگر میری نماز کسی باریک در بار یک کمی یا نقص کی وجہ سے قابل قبول نہیں تو میری کمزوریوں پر پردہ ڈال کر بخشش فرما اور میری عبادت کو قبول فرمالے۔ ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔ ہم تیری اس کبریائی، عظمت اور جلال کو جو تیری ذات پاک کے شایاں اور مناسب حال ہے کہاں جان سکتے ہیں۔ اس واسطے ان کمیوں پر چشم پوشی فرما اور عفو کر۔ گزشتہ غلطیوں کو معاف فرما اور آئندہ کے واسطے توفیق عطا فرما کہ ہم تیری عبادت بطریق احسن اور ابلاغ کرنے کے لائق ہوں۔ نماز کی کمی اور نقائص کی تلافی کے واسطے ماثورہ اوراد کے علاوہ ایک ایک مقررہ تعد ادرکعات سنن کی بھی ضروری ہے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ فرائض کی تکمیل کے واسطے سنن کا پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے۔ جو لوگ سنتوں کے ادا کرنے میں سستی یا کاہلی کرتے ہیں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ میں ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہتا ہوں کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل سے کہ آپ نماز فرائض کے بعد فوراً اندر تشریف لے جاتے ہیں کوئی ٹھو کر کھائے اور خود بھی فرائض کے بعد فوراً مسجد سے باہر بھاگنے کی کوشش کرے اور ادعیہ ماثورہ اور سنن کی پرواہ نہ کرے۔ یاد رکھو کہ حضرت اقدس ان سب باتوں کے پورے پابند ہیں اور اکثر گھر میں نوافل میں بھی لگے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات آپ سنن مسجد میں بھی ادا کر لیتے ہیں۔ غالباً یہی خیال آجاتا ہو گا کہ کوئی ٹھو کر نہ کھائے۔“ (خطبات نور، خطبه جمعه فرموده ۱۰، اپریل ۱۹۰۸ء، صفحہ ۳۲۵ تا ۳۲۷)