صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 54
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۴ ۸۰ - كتاب الدعوات تشریح : الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَاةِ: نماز کے بعد دعا کرنا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر ایک نماز کے پڑھنے کے بعد۔۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ذکر کو ہمیشہ جاری رکھتے تھے گویا سنت ہو گئی تھی۔ابن عباس کہتے ہیں کہ جب ہم دور ہوتے تھے تو انتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ يَاذَا الْجَلالِ والاکرام کے ذکر سے معلوم کرتے تھے کہ نماز ختم ہو گئی ہے۔پس نماز کے بعد پڑھنے کے لئے ایک ذکر تو یہ ہے کہ انت السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ پڑھا جاوے۔دوسرے یہ کہ سبحان اللہ اور الحمد للہ تینتیس تینتیں دفعہ پڑھا جاوے اور اللہ اکبر چونتیں دفعہ پڑھا جاوے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء في التسبيح والتكبير ) يه ذکر کئی طریق پر مروی ہے۔مگر سب سے زیادہ صحیح طریق یہی ہے کہ الگ الگ پہلے دونوں جملوں کو تینتیس تینتیں دفعہ کہے اور تیسرے کو چونتیس دفعہ۔نماز کے بعد کا وقت ذکر کے لئے بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے اس وقت ضرور ذکر کرنا چاہیئے۔بعض لوگ مجھے اور حضرت مولوی صاحب خلیفتہ المسیح الاوّل اور حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر شائد سمجھتے ہوں کہ یہ نماز کے بعد ذکر نہیں کرتے۔انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل بھی ذکر کیا کرتے تھے اور میں بھی کرتا ہوں۔ہاں اونچی آواز سے نہ وہ کہتے تھے اور نہ میں۔دل میں کہتا ہوں۔پس نماز کے بعد ضرور ذکر کرنا چاہیئے۔“ ( ذکر الہی، انوار العلوم، جلد ۳ صفحہ ۵۰۸) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نماز کے اختتام پر سلام پھیر کر معاہی حکم ہے کہ انسان کم از کم تین بار استغفار پڑھے ا اور حدیث میں تو یوں بھی آیا ہے کہ نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ ، ۳۳ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھے۔یہ بھی نماز کے بعد کے وظائف میں سے ایک ضروری وظیفہ ہے۔سلام پھیرتے ہی معاً تین بار اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ ( ترمذی کتاب الدعوات) کہنے کا جو حکم ہے اس میں بھید کیا ہے ؟ اور اس کی وجہ کیا؟ اصل بات یہ ہے کہ انسان بڑا کمزور ، ناتواں اور ست ہے۔۔۔۔