صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 52 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 52

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۲ ۸۰ - كتاب الدعوات ٹھونگے مارتی ہے، ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد کرنے میں گزار دیتے ہیں اور حضور الہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں۔نماز میں دعا مانگو۔نماز کو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۰۲) باب ۱۸: الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَاةِ نماز کے بعد دعا کرنا وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ قَالَ كَيْفَ ذَاكَ قَالُوا ٦٣٢٩ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ :۶۳۲۹: اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ یزید (بن أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ سُمَةٍ عَنْ أَبِي ہارون) نے ہمیں خبر دی۔ورقاء نے ہم سے بیان صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالُوا يَا رَسُولَ کیا۔انہوں نے سمئی سے، سیمی نے ابو صالح سے، اللَّهِ قَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔لوگوں نے کہا: یارسول اللہ ! دولت مند سارے ہی در جے اور ہمیشہ کی نعمت لے گئے ہیں۔آپ نے صَلَّوْا كَمَا صَلَّيْنَا وَجَاهَدُوا كَمَا پوچھا: یہ کیسے ؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نمازیں جَاهَدْنَا وَأَنْفَقُوا مِنْ فُضُولِ أَمْوَالِهِمْ پڑھیں جیسے ہم نے پڑھیں اور جہاد کیا جیسے ہم نے وَلَيْسَتْ لَنَا أَمْوَالٌ قَالَ أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ جِہاد کیا اور ضرورت سے زیادہ جو اُن کے مال تھے بِأَمْرٍ تُدْرِكُونَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اُن میں سے انہوں نے خرچ بھی کیا اور ہمارے وَتَسْبِقُونَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكُمْ وَلَا يَأْتِي پاس مال نہیں۔آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِنْتُمْ بِهِ إِلَّا مَنْ جَاءَ بات نہ بتاؤں کہ جس سے تم ان لوگوں کے درجہ کو بِمِثْلِهِ تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلّ صَلَاةٍ پالو گے جو تم سے پہلے تھے اور اُن سے آگے نکل عَشْرًا وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا وَتُكَبِّرُونَ جاؤ گے جو تمہارے پیچھے ہیں ؟ اور کوئی بھی ویسا عمل نہیں کرے گا جو تم نے کیا ہو گا، سوائے اس شخص عَشْرًا۔کے کہ جس نے ویسا ہی کیا۔ہر نماز کے بعد تم دس بار سبحان اللہ کہو اور دس بار الحمد للہ کہو اور دس بار اللہ اکبر کہو۔