صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 51
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۵۱ ۸۰ - كتاب الدعوات شریح: الدُّعَاءُ في الصَّلاةِ: نماز میں دعا کرنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہر ایک نماز میں دعا کے لئے کئی مواقع ہیں۔رکوع، قیام، قعدہ، سجدہ وغیرہ۔پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔فجر ، ظہر ، عصر ، شام اور عشاء۔ان پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔یہ سب دعا ہی کے لئے مواقع ہیں۔نماز کی اصلی غرض اور مغز دعاہی ہے اور دعامانگنا اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے عین مطابق ہے۔مثلاً ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے، جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازہ پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے، تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے، اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہیئے۔بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا۔بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میں حقیقی ایمان ہوتا تو وہ ایسا کہنے کی جرات نہ کرتے۔جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اُس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر اپنا فضل کیا ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۳۴) نیز فرمایا: انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے، امن میں رہتا ہے۔جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ماں کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔اسی طرح پر نماز میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور گڑ گڑانے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔یاد رکھو کہ اس نے ایمان کا حظ نہیں اٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے۔بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی