صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 746
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات حَدِيثَ أَنَسٍ حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ نَفَرًا اسلام سے مرتد ہو گیا ہو۔لوگوں نے یہ سن کر کہا: مِنْ عُكْلِ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ کیا حضرت انس بن مالک نے یہ نہیں بیان کیا کہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ رسول الله صلی الم نے چوری کی وجہ سے ہاتھ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْحَمُوا الْأَرْضَ کٹوائے اور آنکھوں میں سلائیاں پھرائیں پھر اُن فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ کو دھوپ میں پھینک دیا گیا؟ میں نے کہا: میں تم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے حضرت انس کی حدیث بیان کرتا ہوں۔مجھ قَالَ أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي سے حضرت انس نے بیان کیا کہ شکل کے آٹھ إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا؟ آدمی رسول اللہ صلی نیم کے پاس آئے اور انہوں قَالُوا بَلَى فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ نے اسلام پر (قائم رہنے کی) آپ سے بیعت أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُوا فَقَتَلُوا کی۔پھر انہوں نے اس زمین کی آب و ہوا کو رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ناموافق پایا اور اُن کے جسم لاغر ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی نیم سے اس کا شکوہ کیا۔آپ نے فرمایا: کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اونٹوں میں نہیں چلے جاتے ، جاکر تم اُن کے دودھ وَسَلَّمَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ۔فَبَلَغَ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ اور پیشاب پیتے رہو ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطَّعَتْ أَيْدِيهِمْ شَيْءٍ چنانچہ وہ باہر گئے اور انہوں نے اُن کے دودھ اور وَأَرْجُلُهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ نَبَذَهُمْ پیشاب پیئے اور وہ تندرست ہو گئے۔پھر انہوں فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا قُلْتُ وَأَيُّ نے رسول اللہ صل الم کے چرواہے کو مار ڈالا اور أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ ارْتَدُّوا اونٹ ہانک کر لے گئے۔یہ خبر رسول اللہ صلی الیوم عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا ؟ فَقَالَ کو پہنچی تو آپ نے اُن کے پیچھے سوار بھیجے انہیں عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللهِ إِنْ سَمِعْتُ گرفتار کر لیا گیا اور اُن کو لے کر آئے۔تو آپ كَالْيَوْمِ قَطُّ، فَقُلْتُ أَتَرُدُّ عَلَيَّ نے اُن کے متعلق حکم دیا اور اُن کے ہاتھ اور پاؤں حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ؟ قَالَ لَا وَلَكِنْ کاٹ ڈالے اور آپ نے اُن کی آنکھوں میں گرم