صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 737
صحیح البخاری جلد ۱۵ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ۔۸۷- كتاب الديات ہیں کہ عامر کے عمل اکارت گئے۔آپ نے فرمایا: جس نے ایسا کہا اس نے غلط کہا۔اسے تو دو ثواب ملے ہوں گے۔وہ تو جہاد کرنے والا مجاہدہ کرنے والا ہے اور کون ساقتل اس کے قتل سے بڑھ کر ہوگا۔أطرافه ،٢٤٧٧، ٤١٩٦ ٥٤٩٧، ٦١٤٨، ٦٣٣١- تشريح۔إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأَ فَلَا دِيَةٌ له: اگر اپنےتئیں غلطی سے مار ڈالے تو اس کی کوئی دبیت نہ ہو گی۔زیر باب روایت جیسا کہ اطراف سے ظاہر ہے بخاری میں دیگر مقامات میں بھی آئی ہیں۔مثلا کتاب المغازی روایت نمبر ۴۱۹۶ میں اس روایت میں یہ وضاحت ہے کہ مسلمان جب دشمن کے مقابل صف آراء ہوئے تو حضرت عامر نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر حملہ کیا مگر تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے یہودی کو نہ لگی بلکہ ان کے اپنے ہی گھٹنے پر آگی جس سے ان کی شہادت ہو گئی مگر بعض لوگوں نے اسے خود کشی کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ عامر کے اعمال ضائع ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پر زور نفی فرمائی اور فرمایا عامر تو خدا کی راہ کا بہت کامیاب مجاہد ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب سے اس امر کی نفی کی ہے کہ نہ یہ خود کشی کا واقعہ ہے جیسا کہ خطا کے لفظ سے ظاہر ہے اور نہ یہ ایسا عمل ہے جس پر ان کے قبیلے پر یا کسی قوم پر دیت پڑے گی۔اس سے امام بخاری نے امام اوزاعی اور امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ ان روایات کا رد کیا جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ غلطی کی صورت میں اس کے قبیلے پر دیت واجب ہو گی۔جمہور کی بھی یہی رائے ہے کہ ایسی صورت میں دیت نہیں ہوگی۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحه ۲۷۲) بَاب ۱۸: إِذَا عَضَّ رَجُلًا فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ اگر کوئی کسی شخص کو دانت سے کاٹے اور اس کے دانت گر پڑیں ٦٨٩٢: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۸۹۲: آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ اُنہوں نے کہا: میں نے زرارہ بن اوٹی سے سنا وہ رَجُلًا عَضَ يَدَ رَجُلٍ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ حضرت عمران بن حصین سے روایت کرتے تھے کہ فَمِهِ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى ایک آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ کو کاٹا اور اس