صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 738
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳۸ ۸۷- كتاب الديات النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نے جو اپنا ہاتھ جھٹکا دے کر اُس کے منہ سے نکالا يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ تو اُس کے سامنے کے دو دانت گر پڑے اور وہ نبی الْفَحْلُ، لَا دِيَةَ لَهُ۔صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے سانڈ کاٹتا ہے تمہیں اس کی کوئی دیت نہیں ملے گی۔٦٨٩٣: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ۶۸۹۳: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ ابن جریج سے ، ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح) بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْتُ فِي سے، عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے غَزْوَةٍ فَعَضٌ رَجُلٌ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک غزوہ میں نکلا تو ایک شخص نے کسی کو کاٹا اور أطرافه : ١٨٤٨، ٢٢٦٥، ٢٩٧٣، ٤٤١٧۔اُس نے جھٹکا دے کر اس کے سامنے کے دانت نکال دیئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔بَاب ۱۹ : السِّنُّ بِالسِّنِّ دانت کے بدلے دانت ٦٨٩٤: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا :۶۸۹۴ (محمد بن عبد اللہ ) انصاری نے ہم سے حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَةَ بیان کیا کہ حمید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت النَّضْرِ لَطَمَتْ جَارِيَةً فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نفر کی بیٹی فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا اور اس کا سامنے کا فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ۔دانت توڑ دیا اس کے رشتہ دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم أطرافه ۲۷۰۳ ۲۸۰٦، ٤٤٩٩، ٤٥٠٠، ٤٦١١- کے پاس آئے تو آپ نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔