صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 736 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 736

صحیح البخاری جلد ۱۵ ZMY ۸۷- كتاب الديات ریح : إِذَا مَاتَ فِي الرِّحَامِ أَوْ قُتِلَ : اگر کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے۔رش میں مارے جانے والے کے متعلق فقہاء لکھتے ہیں۔(۱) اس کی دیت بیت المال ادا کرے (۲) وہ لوگ ادا کریں جن کے رش میں وہ شخص مرا (۳) کسی پر حلف کے ذریعہ یا گواہیوں کے ذریعہ جرم ثابت کیا جائے اور پھر اس سے دیت لی جائے۔(۴) اس کی دیت معاف ہے۔کسی سے نہ لی جائے گی۔(فتح الباری، جزء ۱۲ صفحہ ۲۷۱) بَاب :١٧: إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأَ فَلَا دِيَةَ لَهُ اگر اپنے تئیں غلطی سے مار ڈالے تو اس کی کوئی دیت نہ ہو گی ٦٨٩١ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۶۸۹۱ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلمہ (بن قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الوع) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی صلی وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیر کی طرف نکلے تولوگوں أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ فَحَدَا میں سے ایک شخص نے کہا: عامر اپنے شعروں میں بِهِمْ۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کچھ ہمیں سناؤ۔چنانچہ وہ اپنے شعر گا کر انہیں مَنِ السَّائِقُ؟ قَالُوا عَامِرٌ۔فَقَالَ رَحِمَهُ سنانے لگے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیہ اللهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ هَلَّا أَمْتَعْتَنَا اونٹوں کو چلانے والا کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: بِهِ؟ فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ عامر۔آپ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں اس حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ سے محفوظ کیوں نہ ہونے دیا؟ وہ اسی رات کی صبح کو وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ زخمی ہوئے تو لوگوں نے کہا: اُن کے سارے عمل فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکارت گئے۔انہوں نے اپنے تئیں مار ڈالا۔جب فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي میں واپس آیا تو وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ عامر زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ کے عمل اکارت گئے۔(یہ سن کر) میں نبی صلی اللہ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے اثْنَيْنِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ وَأَيُّ قَتْلِ نبی ! میرے ماں باپ آپ کے قربان، لوگ کہتے