صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 735
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳۵ ۸۷ - كتاب الديات عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَيْتِ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمید سے روایت کی کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَدَّدَ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا إِلَيْهِ مِشْقَصًا فَقُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا آپ نے اس کی طرف ایک تیر کا نشانہ باندھا ۔ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ۔ أطرافه: ٦٢٤٢ ، ٦٩٠٠ - یحی کہتے تھے: میں نے پوچھا: تم سے یہ کس نے بیان کیا۔ حمید نے کہا: حضرت انس بن مالک نے۔ باب ١٦ : إِذَا مَاتَ فِي الرِّحَامِ أَوْ قُتِلَ اگر کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے ٦٨٩٠ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ۶۸۹۰: اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا: ہشام نے عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا كَانَ ہمیں خبر دی۔ ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ آپ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ فرماتی تھیں : جب اُحد کی جنگ ہوئی تو مشرکوں کو شکست دے کر بھگا دیا گیا۔ ابلیس نے دہائی دی۔ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔ (یہ سن کر ) پہلے پلٹ پڑے اور وہ اور پچھلے تلواروں سے آپس فَقَالَ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي قَالَتْ میں لڑنے لگے۔ حذیفہ نے غور سے جو دیکھا تو کیا فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ قَالَ دیکھتے ہیں کہ لوگ اُن کے باپ یمان پر حملہ آور حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ۔ قَالَ عُرْوَةُ فَمَا ہیں۔ اُنہوں نے پکارا، اللہ کے بندو یہ میرا باپ زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى ہے، میرا باپ ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی تھیں: اللہ لَحِقَ بِاللهِ۔ کی قسم ! وہ نہ ہٹے اس کو مار ہی ڈالا۔ حذیفہ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ عروہ کہتے تھے: حضرت حذیفہ کے دل) میں اس (کلمہ ) کی وجہ سے ہمیشہ بھلائی رہی اور وہ اسی حالت میں اللہ سے جاملے۔ أطرافه: ۳۲۹۰ ، ۳۸۲۴ ، ٤٠٦٥، ٦٦٦٨، ٦٨٨٣-