صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 734
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۳۴ ۸۷ - كتاب الديات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَا کی۔ آپ فرماتی تھیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تُلِدُّونِي فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ کے منہ میں آپ کی بیماری کے اثنا میں دوائی ڈالی۔ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ لَا يَبْقَى أَحَدٌ آپؐ نے فرمایا: میرے حلق میں دوامت ڈالو۔ ہم مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ نے کہا: بیمار کو دوا سے نفرت ہوئی اسے نفرت ہوتی ہے۔ (اس لیے يَشْهَدُكُمْ۔ آپ یہ فرمارہے ہیں) جب آپ ہوش میں آئے أطرافه: ٤٤٥٨، ٥٧١٢، ٦٨٩٧- آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی باقی نہ رہے مگر اس کے حلق میں دوائی ڈالی جائے سوائے عباس کے کیونکہ عباس تمہارے ساتھ شامل نہیں تھا۔ بَاب ١٥ : مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ جس نے حاکم کے بغیر خود ہی اپنا حق لیا یا بدلہ لیا ٦٨٨٧ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۸۸۷ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ الْأَعْرَجَ نے ہمیں بتایا۔ ابو زناد نے ہم سے بیان کیا کہ اعرج حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّهُ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سنا۔ وہ کہتے تھے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ يَقُولُ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: قیامت کے دن ہم سب سے پیچھے آنے والے اور سب سے يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ آگے بڑھنے والے ہیں۔ أطرافه: ۲۳۸ ، ٨٧٦، ٨٩٦ ، ٢٩٥٦، ٣٤٨٦، ٦٦٢٤، ٧٠٣٦، ٧٤٩٥۔ ٦٨٨٨ : وَبِإِسْنَادِهِ لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ ۲۸۸۸ اور اسی سند سے مروی ہے اگر کوئی أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ حَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ تمہارے گھر میں جھانکے اور تم نے اس کو اجازت فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ۔ نہ دی ہو تو تم اس کو کنکری مارو اور اُس کی آنکھ طرفه: ٦٩٠٢ - پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ٦٨٨٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۸۸۹: مد دنے ہم سے بیان کیا کہ یحی (قطان)