صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 730
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات أن يَصَدَقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدَدِ پوری کی پوری وارثوں کے حوالے کرنی ہوگی۔تَكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ سوائے اس کے کہ وہ اپنے طور پر معاف کر دیں۔مُؤْمِنَةٍ وَ إِنْ كَانَ مِنْ قَومِ بَيْنَكُمْ وَ اگر وہ ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو اور وہ بَيْنَهُم مِّيْثَاقَ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إلى مؤمن ہو تو ایک مؤمن گردن آزاد کرنی ہوگی أَهْلِهِ وَ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے يَجِدُ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوبَةٌ در میان معاہدہ ہو تو دیت دینی ہوگی جو پوری کی منَ اللهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا پوری اس کے وارثوں کے حوالے کی جائے۔اور ایک مؤمن گردن آزاد کرنی ہوگی اور جو طاقت (النساء: ٩٣) نہ رکھے تو پھر لگاتار دو مہینے روزے رکھنے ہوں گے۔یہ بطور تو بہ کے ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے نہایت ہی باریک بین نکتہ رس ہے۔تشريح۔وَمَا كَانَ لِمُؤْمِن أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطا اللہ تعلی کا فرمانا کسی مومن کو یہ زیب نہیں کہ وہ کسی مؤمن کو مار ڈالے۔فقہاء نے قتل خطا کی تعریف یوں کی ہے کسی انسان سے جائز اور مباح کام کرتے وقت بلا ارادہ غلطی سے کوئی آدمی قتل ہو گیا یا زخمی ہوا ، پھر مر گیا۔مثلاً: وہ شکار کو گولی مار رہا تھا یا نشانہ بازی کر رہا تھا کہ غلطی سے معصوم جان قتل ہو گئی یا دوران جنگ میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کر دیا گیا۔( الهداية في شرح بداية المبتدى، كتاب الجنايات، أوجه القتل، جزء ۴ صفحه ۴۴۳) علامہ بدر الدین عینی اس آیت کا موقعہ نزول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: مجاہد اور عکرمہ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی کے متعلق نازل ہوئی ہے ، انہوں نے ایک مسلمان مرد کو قتل کر دیا تھا اور ان کو اس کے مسلمان ہونے کا علم نہیں تھا، وہ شخص انہیں مکہ میں ابو جہل کے ساتھ مل کر تکالیف پہنچایا کرتا تھا۔پھر بعد ازاں وہ مسلمان ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلا، تو راستہ میں اس کی عیاش بن ابی ربیعہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور ان کا گمان تھا کہ یہ کا فر ہے۔پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غلام کو آزاد کریں اور یہ آیت نازل ہوئی۔یہ امام طبری کی بیان کردہ تفسیر ہے جو مجاہد اور عکرمہ سے مروی ہے۔اور سدی نے کہا ہے کہ اس مسلمان مرد کو فتح مکہ کے دن قتل کیا جبکہ وہ مکہ سے باہر آئے ہوئے تھے اور ان کے اسلام کا کسی کو علم نہیں تھا۔دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت ابو عامر کے متعلق نازل ہوئی ہے جو حضرت ابوالدرداء