صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 729 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 729

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۹ ۸۷ - كتاب الديات مقررہ دیت ادا کر نا ضروری ہے۔سوائے اس کے کہ وہ اپنے طور پر معاف کر دے۔۔۔غلام آزاد کرنے کی توفیق نہ ہو تو دو مہینے متواتر روزے رکھنے ہوں گے۔(النساء : ۹۳) زیر باب واقعہ میں حضرت حذیفہ کے والد دورانِ جنگ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں غلطی سے قتل ہو گئے۔حضرت حذیفہ نے ان مسلمانوں کو معاف فرما دیا بلکہ آپ تو اپنے والد کے قاتلوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تھے اور وہ ہمیشہ اسی خُلق پر قائم رہے۔یہ وہ پاک انقلاب تھا جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ نے ان صحابہ میں پیدا کیا۔وہ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اب خون معاف کرنے لگے بلکہ باپ کے قاتلوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہے۔یہ ہے حقیقی عفو جس کا عنوان باب کے الفاظ میں ذکر ہے العفو في الخطا۔غزوہ اُحد میں دشمن کی چال سے ایک افرا تفری پھیل گئی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اسلامی فوج میں ایک خطر ناک کھلبلی کی صورت پیدا ہو گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایک بلند جگہ پر کھڑے ہوئے یہ سب نظارہ دیکھ رہے تھے مسلمانوں کو آواز پر آواز دی، مگر اس شور شرابے میں آپ کی آواز دب دب کر رہ جاتی تھی۔مورخین لکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتنے قلیل عرصہ میں ہو گیا کہ اکثر مسلمان بالکل بدحواس ہو گئے۔حتیٰ کہ اس بد حواسی میں بعض مسلمان ایک دوسرے پر وار کرنے لگ گئے اور اپنے پرائے میں امتیاز نہ رہا۔چنانچہ خود مسلمانوں کے ہاتھ سے بعض مسلمان زخمی ہو گئے اور حذیفہ کے والد یمان کو تو مسلمانوں نے غلطی سے شہید ہی کر دیا۔حذیفہ اس وقت قریب ہی تھے وہ چلاتے رہ گئے کہ اے مسلمانو! یہ میرے والد ہیں مگر اس وقت کون سنتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں مسلمانوں کی طرف سے یمان کا خون بہا ادا کرنا چاہا مگر حذیفہ نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اپنے باپ کا خون مسلمانوں کو معاف کرتا ہوں۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی ا لم صفحہ ۵۵۴) بَاب :۱۱: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَمَا كَانَ لِمُؤْمِن أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنَّا إِلَّا خَطَئًا اللہ تعالیٰ کا فرمانا کسی مومن کو یہ زیب نہیں کہ وہ کسی مؤمن کو مار ڈالے مگر یہ کہ بھول چوک کر وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ اور جس نے کسی مومن کو غلطی سے مار ڈالا تو ایک مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِه إِلا مؤمن گردن کا آزاد کرنا ہو گا اور دیت دینی ہوگی