صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 731 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 731

۷۳۱ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات کے والد تھے ، وہ ایک لشکر میں تھے ، تو لشکر سے نکل کر ایک گھائی کی طرف گئے ، وہاں ایک مرد کو اس کی بکریوں کے ساتھ پایا۔انہوں نے اس مرد کو قتل کر دیا اور اس کی بکریاں لے لیں اور وہ مر ولا اله الا اللہ پڑھ رہا تھا تو ان کے دل میں اس کو قتل کرنے سے تردد پیدا ہوا، انہوں نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اس کے قتل کو نا پسند فرمایا کہ کیونکہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھ چکا تھا۔سو یہ آیت نازل ہوئی۔اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت حذیفہ بن یمان کے والد کے متعلق نازل ہوئی ہے جب غزوہ احد میں ان کو مسلمانوں نے غلطی سے قتل کر دیا تھا۔(عمدة القاری، جزء ۲۴ صفحه ۴۶) بَاب ۱۲: إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ اگر کوئی قتل کا ایک بار اقرار کرلے تو اس اقرار کی بنا پر مار ڈالا جائے ٦٨٨٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ :۶۸۸۴ اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا که حبان ( بن ہلال) نے ہمیں بتایا۔ہمام نے ہم أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضٌ رَأْسَ سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔حضرت انس جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بن مالک نے ہم سے بیان کیا کہ ایک یہودی نے بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ؟ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں سے چور چور کر دیا۔تو الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا۔فَجِيءَ اِس سے پوچھا گیا: تم سے یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں بِالْيَهُودِي فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ شخص نے کیا؟ فلاں شخص نے ؟ آخر اس یہودی کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضٌ رَأْسَهُ نام لیا گیا تو اُس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں) اس یہودی کو لے آئے اور اس نے اقرار کیا بِالْحِجَارَةِ، وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ بِحَجَرَيْنِ۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا سر بھی ایک پتھر سے چور چور کیا گیا۔اور کبھی ہمام نے یوں بھی کہا دو پتھروں سے۔أطرافه ٢٤١٣، ٢٧٤٦ ، ۵۲۹٥، ۶۸۷۶، ۶۸۷۷، ۶۸۷۹، ٦٨٨٥- باب ۱۳: قَتْلُ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ عورت مقتولہ کے بدلہ میں مرد قاتل کو مار ڈالنا ٦٨٨٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :۶۸۸۵: مسد د نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن