صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 726
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۶ ۸۷ - كتاب الديات کرنا چاہے تو حکام کا فرض ہے کہ وہ لاز ما قصاص لیں۔من آخیہ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض اوقات دشمنی اور عداوت اور بغض سے قتل نہیں ہو تا بلکہ کسی وقتی جوش اور اشتعال کے نتیجہ میں بھی قتل ہو جاتا ہے۔اس لئے آخینی کہہ کر قاتل کے لئے رحم کی تحریک کر دی کہ آخر وہ تمہارا بھائی ہے۔اگر اُس سے نادانستہ طور پر پر غلطی ہو گئی ہے تو تم جانے دو۔اور اُسے معاف کر دو۔ادھر قاتل کو بھی شرمندہ کیا کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ تو نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے۔شی اس جگہ نکرہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں نکرہ تعظیم کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور تحقیر کے لئے بھی۔پس فَمَنْ عُنِى لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ سے مراد کلی معافی بھی ہو سکتی ہے اور جزوی بھی۔یعنی قتل نہ کرنا اور دیت لے لینا یا دیت میں بھی کمی کر دینا جائز ہے اور قتل نہ کرنا اور دیت بھی نہ لینا جائز ہے۔دونوں صورتوں میں سے جو بھی کوئی چاہے اختیار کر سکتا ہے اور اگر بعض ورثاء معاف کر دیں اور بعض نہ کریں تو قاتل کو قتل کی سزا نہیں دی جائے گی جیسے مقتول کے دو بیٹے ہوں ان میں سے ایک معاف کر دے اور دوسرا نہ کرے تو قاتل قتل نہیں ہو گا لیکن اگر حاکم سمجھے کہ چونکہ وارث ہی شرارت سے مروانے والے ہیں۔اس لیے وہ معاف کرتے ہیں تو حاکم معاف نہیں کرے گا۔بلکہ انہیں سزا دے گا۔اور وارثوں کی شرارت ثابت ہو جانے کی وجہ سے ان کی وارثت کا حق بھی زائل ہو جائے گا۔فاتباع بِالْمَعْرُونِ وَ اَدَاء إِلَيْهِ بِاِحْسَانِ میں یہ بتایا کہ دیت لینے والے کو چاہیے کہ مناسب رنگ میں دیت وصول کرے۔یعنی اگر قاتل یکدم ادا نہیں کر سکتا تو وصول کرنے میں سختی نہ کرے بلکہ اُسے کچھ مہلت دے دے اور دیت دینے والے کو چاہیے کہ وہ ادا کرنے میں شستی یا شرارت نہ کرے بلکہ تکلیف اٹھا کر بھی دیت ادا کر دے اور کسی ناواجب تاخیر یا شرارت سے کام نہ لے۔ذلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ : فرمایا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے آسانی پیدا کر دی گئی ہے اور اس ذریعہ سے اس نے تمہارے لئے اپنی رحمت