صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 727
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۷ ۸۷ - كتاب الديات کا سامان مہیا کیا ہے تمہیں چاہیے کہ اسے مد نظر رکھو اور خد اتعالیٰ کے اس احسان کی قدر کرو۔فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ فرماتا ہے کہ اگر اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرے گا اور اختلی سے کام لے گا تو اس کے لئے درد ناک عذاب مقدر ہے۔یعنی اگر مقتول کے ورثاء دیت بھی لے لیں اور موقع پا کر دوسرے کو بھی قتل کر دیں تو وہ کسی رحم کے ستحق نہیں ہوں گے بلکہ انہیں لاز ناسزادی جائے گی۔یعنی حکومت دوسرے فریق کو انہیں معاف کرنے کی اجازت بھی نہیں دے گی تا کہ اس قسم کی وحشیانہ حرکات قومی اخلاق کو نہ بگاڑیں اور لوگوں کے اندر قانون "6 کا احترام قائم ہو۔( تفسیر کبیر، سورة البقرة، زیر آیت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ، جلد ۲ صفحه ۳۶۲ تا ۳۶۴) بَاب ۹: مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِءٍ بِغَيْرِ حَقٍ جو نا جائز طور پر کسی آدمی کے خون کا مطالبہ کرے ٦٨٨٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۸۸۲: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن ابی حسین حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سے روایت کی کہ نافع بن جبیر نے ہم سے بیان أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کیا۔نافع نے حضرت ابن عباس سے روایت کی أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ ثَلَاثَةٌ مُلْحِدٌ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغِ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ سب سے زیادہ قابل نفرت اللہ کے نزدیک تین الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِي بِغَيْرِ شخص ہیں۔حرم میں بے اعتدالی کرنے والا اور اسلام میں جاہلیت کی رسم و رواج کا خواہاں اور ناحق کسی آدمی کے خون کی جستجو کرنے والا تا کہ اس کا خون بہائے۔حَقِّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ۔