صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 725 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 725

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۵ ۸۷ - كتاب الديات اُسے کہا کہ اس سے بدلہ لے۔اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے اس کو معاف کر دیا۔آپ نے فرمایا تو نے تو اس کو معاف کر دیا مگر میں چاہتا ہوں کہ تیرے حق میں احتیاط سے کام لوں۔معلوم ہوتا ہے وہ شخص سادہ تھا اور اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا تھا اور پھر اس شخص کو سات کوڑے مارے اور فرمایا اس شخص نے تو تجھے معاف کر دیا تھا مگر یہ سزا حکومت کی طرف سے ہے۔غرض اسلام نے مظلوم کو یا بصورت مقتول اس کے ورثاء کو مجرم کا جرم معاف کر دینے کی تو اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی حکومت کو بھی اختیار دیا ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ مظلوم کم فہم ہے یا ظالم کو معاف کر دینے سے اس کی دلیری اور شوخی اور بھی بڑھ جائے گی یا مقتول کے ولی اپنے نفع نقصان کو یا پبلک کے نفع نقصان کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا خود شریک جرم ہیں تو اس صورت میں باوجود ان کے معاف کر دینے کے خود مجرم کو سزا دے اور اس سے بہتر اور کونسی تجویز دنیا میں امن اور صلح کے قیام کی ہو سکتی ہے۔اگر ایک طرف مجرموں کو معاف کر دینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں تو دوسری طرف ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص جرم تو کر لیتا ہے مگر بعد میں وہ خود بھی سخت پشیمان ہوتا ہے اور اس کے رشتہ داروں کی بھی ایسی نازک حالت ہوتی ہے کہ رحم کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُسے چھوڑ دیا جائے۔اور خود جن لوگوں کے خلاف وہ جرم ہوتا ہے وہ بھی یا اُن کے ولی بھی چاہتے ہیں کہ اُس سے در گزر کریں۔ایسی صورت میں دونوں کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے موجودہ تمدن نے کوئی علاج نہیں رکھا۔صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے تیرہ سو سال پہلے سے ساتویں صدی کے تاریک تمدن میں ایسے اعلیٰ درجہ کے تمدن کی بنیاد رکھی جس کی نظیر بیسویں صدی کا دانا مدبر بھی پیش نہیں کر سکتا۔لیکن جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے عفو سے کام لینا حاکم کا کام نہیں بلکہ مقتول کے اولیاء اور ورثاء کا کام ہے ، ہاں اگر حاکم مجاز دیکھے کہ عفو اپنے اندر مضرات کے بعض پہلو رکھتا ہے تو وہ معافی کو کالعدم بھی قرار دے سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت علی کے واقعہ سے ثابت کیا جا چکا ہے۔لیکن اگر وہ شخص جس کا حق ہے قصاص لے معاف نہ