صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 724
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۲۴ ۸۷ - كتاب الديات اسلام نے مقتول کے وارثوں کو عفو کا جو اختیار دیا ہے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بعض دفعہ نقصانات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کے وارث ہی قتل کروادیں اور پھر قاتل کو معاف کر دیں۔یہ شبہ ایک معقول شبہ ہے۔مگر اسلام نے اس قسم کے خدشات کا بھی ازالہ کر دیا ہے اور گو ایک طرف اس نے دو مخالف خاندانوں میں صلح کرانے کے لئے عفو کی اجازت دی ہے مگر دوسری طرف ایسی ناجائز کارروائیوں کی بھی روک تھام کر دی ہے۔چنانچہ عفو کے ساتھ اس نے اصلاح کی شرط لگادی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ عفو اسی وقت جائز ہوتا ہے جب اس کے نتیجہ میں اصلاح کی اُمید ہو۔اگر عفو باعث فساد ہے تو ایسا عفو ہرگز جائز نہیں اور حکومت با وجود وارثوں کے عفو کر دینے کے اپنے طور پر سزا دے سکتی ہے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ایک واقعہ جو طبری نے لکھا ہے بتاتا ہے کہ ابتدائے اسلام سے اس احتیاط پر عمل ہو تا چلا آیا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ عدل بن عثمان بیان کرتے ہیں۔۔۔میں نے دیکھا کہ حضرت علی حمد ان سے باہر مقیم تھے کہ اسی اثناء میں آپ نے دو گروہوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔اور آپ نے ان میں صلح کرادی لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ آپ کو کسی شخص کی آواز آئی کہ کوئی خدا کے لئے مدد کو آئے۔پس آپ تیزی سے اُس آواز کی طرف دوڑے حتی کہ آپ کے جوتوں کی آواز بھی آرہی تھی اور آپ کہتے چلے جاتے تھے کہ مدد آگئی مدد آگئی۔“ جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے سے لپٹا ہوا ہے۔جب اُس نے آپ کو دیکھا تو عرض کیا کہ اے امیر المومنین! میں نے اس شخص کے پاس ایک کپڑا نو درہم کو بیچا تھا اور شرط یہ تھی کہ کوئی روپیہ مشکوک یا کٹا ہوا نہ ہو۔اور اس نے اس کو منظور کر لیا تھا۔لیکن آج جو میں اس کو بعض ناقص روپے دینے کے لئے آیا تو اس نے بدلانے سے انکار کر دیا۔جب میں پیچھے پڑا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا۔آپ نے مشتری سے کہا کہ اس کو روپے بدل دے پھر دوسرے شخص سے کہا کہ تھپڑ مارنے کاثبوت پیش کر جب اس نے ثبوت دے دیا تو آپ نے مارنے والے کو بٹھا دیا اور