صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۲۸ ٨٠ - كتاب الدعوات قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا ہوں۔ اور جب آپ سو کر بیدار ہوتے تو فرماتے: أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔ أطرافه: ٦٣١٢، ٦٣١٤، ٧٣٩٤۔ سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس نے ہمیں مارا تھا اور اُسی کی طرف اُٹھ کر جانا ہے۔ ٦٣٢٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي ۶۳۲۵: عبد ان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حمزہ حَمْزَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ (محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے منصور (بن معتمر ) سے، منصور نے ربعی بن حراش سے، ربعی نے حِرَاشٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي خرشہ بن کر سے ، خوشہ نے حضرت ابوذر غفاری) ذَرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جب آپ رات مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ کو اپنے بستر پر لیے تو دعا کرتے: اے میرے اللہ ! بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تیرے نام سے ۔ ے نام سے مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں اور قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا جب جاگتے تو دعا کرتے : سب حمد اللہ ہی کے لئے أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔ طرفه ٧٣٩٥- ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس نے مارا تھا اور اُسی کی طرف اُٹھ کر جانا ہے۔ تشريح : مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: جب صبح اُٹھے تو کیا کہے۔ زیر باب روایات میں پہلی روایت (۶۳۲۳) میں سید الاستغفار کا ذکر ہے۔ اس کی تاکید دیگر احادیث میں یوں ملتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سید الاستغفار ضرور سیکھو اور اسے حرزجان بناؤ۔ کے اور سید الاستغفار کے متعلق بخاری میں ہی ایک روایت ہے کہ جو شخص دل کے یقین سے یہ دعا پڑھے گا اسے جنت کی بشارت ہے۔ کے دن کے آغاز اور اختتام پر دعا کی برکت اور نے فضیلت کا ذکر ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے : حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میر ادن کی ابتداء کی ایک ساعت میں ذکر کرو اور دن کے آخر کی ایک ساعت میں ذکر کرو تو اس دن کے درمیان کے لئے میں تمہارے لئے کافی ہو جاؤں گا۔ سے !۔ (السنن الكبرى للنسائي، كتابُ عَمَلِ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، ذِكرُ سَيِّدِ الاسْتِغْفَارِ وَثَوَابُ مَنِ اسْتَعْمَلَهُ، حديث نمبر ۱۰۲۲۹) (بخاری، کتاب الدعوات، روایت نمبر ۶۳۰۶) (حلية الأولياء ، ذِكْرِ طَوَاية اء ، ذِكْرِ طَوَائِفَ مِنْ جَمَاهِيرِ النَّشَاكِ وَالْعُبَّادِ ، مُحَمَّدُ بْنُ صُبَيْحِ بْنِ السَّمَاكِ، جلد ۸ صفحه (۲۱۳)