صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸ ۸۰ - كتاب الدعوات قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا ہوں۔اور جب آپ سو کر بیدار ہوتے تو فرماتے: أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس نے ہمیں مارا تھا اور اُسی کی أطرافه: ٦٣١٢، ٦٣١٤، ٧٣٩٤۔طرف اُٹھ کر جاتا ہے۔٦٣٢٥ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۶۳۲۵: عبد ان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حمزہ حَمْزَةَ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ ( محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے منصور ( بن معتمر ) حِرَاشٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ عَنْ أَبِي ، منصور نے ربعی بن حراش سے، ربعی نے سے ذَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ خرشہ بن حر سے، خرشہ نے حضرت ابوذر غفاری) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا جب آپ رات مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ کو اپنے بستر پر لیٹے تو دعا کرتے: اے میرے اللہ ! بِاسْمِكَ أُمُوتُ وَأَحْيَا فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تیرے نام سے مرتا ہوں اور زندہ ہو تا ہوں اور قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا جب جاگتے تو دعا کرتے : سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ۔طرفه: ۷۳۹۵- رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی نے مارا تھا اور اُسی کی طرف اُٹھ کر جاتا ہے۔مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: جب صبح اٹھے تو کیا کہے۔زیر باب روایات میں پہلی روایت (۶۳۲۳) میں سید الاستغفار کا ذکر ہے۔اس کی تاکید دیگر احادیث میں یوں ملتی ہے۔رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سید الاستغفار ضرور سیکھو اور اسے حرزجان بناؤ اور سید الاستغفار کے متعلق بخاری میں ہی ایک روایت ہے کہ جو شخص دل کے یقین سے یہ دعا پڑھے گا اسے جنت کی بشارت ہے۔کے دن کے آغاز اور اختتام پر دعا کی برکت اور فضیلت کا ذکر ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے: حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میر ادن کی ابتداء کی ایک ساعت میں ذکر کرو اور دن کے آخر کی ایک ساعت میں ذکر کرو تو اس دن کے درمیان کے لئے میں تمہارے لئے کافی ہو جاؤں گا۔سے ! (السنن الكبرى للنسائى، كِتَابُ عَمَلِ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، ذِكرُ سَيْدِ الاسْتِغْفَارِ وَثَوَابُ مَنِ اسْتَعْمَلَهُ، حديث نمبر ۱۰۲۲۹) (بخاری، کتاب الدعوات، روایت نمبر ۶۳۰۶) (حلية الأولياء، ذكر طَوَائِفَ مِن جَمَاهِيرِ التُشَاكِ وَالْعُبَادِ، مُحَمَّدُ بْنُ صُبَيْحِ بْنِ السَّماكِ، جلد ۸ صفحه ۲۱۳)