صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 713
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۱۳ ۸۷- كتاب الديات رَحْمَةٌ ۖ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذلِكَ فَلَة رب کی طرف سے ایک آسانی اور رحمت ہے پھر عَذَابٌ اليه ) (البقرة: ١٧٩) جو بھی اس کے بعد حد سے گزرا تو اس کو دردناک سزا ہوگی۔شريح۔يَأْيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ في القتل اللہ تعلی کا یہ فرمانا اسے دے لوگو جو ایمان لائے ہو مقتولوں کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ لفظ قصاص کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الْقِصَاصُ أَنْ يُفْعَلَ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَهُ مِنْ قَتْلِ أَوْ قَطَع أَوْضَرْبِ أَوْ جَرُ (لسان) عربی زبان میں قصاص کے معنے یہ ہیں کہ کسی شخص سے وہی سلوک کیا جائے جو اس نے قتل یا قطع یا ضرب یا زخم کرنے کی صورت میں دوسرے سے کیا ہے۔تاج العروس میں لکھا ہے : القِصَاصُ الْقَتْلُ بِالْقَتْلِ وَالْجُرُحُ بِالْجُرْح كه قصاص اس چیز کا نام ہے کہ قتل کے مقابلہ میں قتل اور زخم کے مقابلہ میں زخم کیا جائے۔(تفسیر کبیر، سورة البقرة، جلد ۲، صفحه ۳۵۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ في القتل میں کہا گیا ہے کہ تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے اس جگہ ”تم سے صرف حکام مراد ہیں جو لاء اینڈ آرڈر یعنی نظم وضبط کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔عام لوگ مراد نہیں۔اور کتب کہہ کر بتایا ہے کہ حکام کا فرض ہے کہ وہ قصاص لیں۔حکام کو یہ اختیار نہیں کہ وہ معاف کر دیں۔كُتِبَ عَلَيْكُمْ میں صرف حکام سے خطاب کیا گیا ہے کہ وہ قصاص لیں۔۔۔۔اور فی القتلی کہہ کر تصریح کر دی گئی ہے کہ اس میں جروح شامل نہیں۔اور درحقیقت یہی وہ آیت ہے جس میں قتل کی سزا کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قتل کی سزا قتل ہے۔اور یہ عام حکم ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فی القتلیٰ فرمایا ہے کہ مقتولوں کے متعلق یہ حکم ہے یہ کوئی سوال نہیں کہ وہ مقتول کون ہو۔اور کس قوم سے تعلق رکھتا ہو۔اس آیت کے سواقتل عمد کی دنیوی سزا کا ذکر قرآن کریم کی کسی اور آیت میں نہیں ہے پس یہی آیت ہے جس پر اسلامی فقہ کی بنیاد ہے اور اس میں مسلمان اور