صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 714
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۱۴ ۸۷ - كتاب الديات غیر مسلمان میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا۔ نہ اس میں یہ ذکر ہے کہ کس کس آلہ سے قتل کرنے والے کی سزا قتل ہے بلکہ خواہ کسی آلہ سے کوئی شخص قتل کر۔ رہے۔ قتل کیا جائے گا۔ بلکہ حدیثوں سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ ایک قتل کے کیس میں بعض دفعہ ایک سے زیادہ افراد کو بھی مارا گیا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ صنعاء میں ایک شخص کو کئی لوگوں نے مل کر قتل کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب کو جو تعداد میں سات تھے قتل کروا دیا۔ اور فرمایا کہ اگر سارا شہر قتل میں شریک ہو تا تو میں سب کو قتل کر ادیتا۔ (طحاوی) ( تفسير كبير ، سورة البقرة، زیر آیت يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ جلد ۲، صفحه ۳۵۸) الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْأُنثى بالانثی : آزاد ہو تو آزاد اور غلام ہو تو غلام اور عورت ہو تو عورت کو۔ حضرت مصلح رت مسیح موعود رضی عنہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعد فرماتا ہے : اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْأُنْثَى بِالْأُنثَى آزاد آزاد کے بدلہ میں ، غلام غلام کے بدلہ میں اور عورت عورت کے بدلہ میں قتل کی جائے ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ آزاد مقتول کے بدلہ میں کسی آزاد کو ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی غلام ہی ہو۔ اور غلام مقتول کے بدلہ میں کسی غلام کو ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی حر ہو اور عورت مقتول کے بدلہ میں کسی عورت کو ہی قتل کیا جائے خواہ اس کا قاتل کوئی مرد ہو۔ کیونکہ كُتِبَ عَلَيْكُم الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلی میں حکم پہلے بیان ہو چکا ہے۔ در حقیقت یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور جملہ مستانفہ اس لئے آتا ہے کہ پہلے جملہ میں جو سوال مقدر ہو اس کو بیان کئے بغیر نئے جملہ میں جواب دیا جائے اور بغیر عطف کے اس کو بیان کیا جائے ( شرح مختصر معانی مولفه ابن یعقوب و بہاؤالدین جلد ۳ مطبوعہ مصر صفحه ۵۴) اس جگہ بھی یہ جملہ ایک سوال مقدر کے جواب کے لئے لایا گیا ہے۔ اور اس میں عرب کی ان رسوم کا قلع قمع کیا گیا ہے جو ان میں عام طور پر رائج تھیں۔ اور وہ سوال مقدر یہ ہے کہ کیا اس حکم سے عرب کا پہلا طریق موقوف ہو جائے گا؟ سو فرمایا کہ ہاں اور اس کی چند مثالیں بیان کر دیں کہ یہ سب موقوف ہیں۔ چنانچہ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثى بالأنثی میں ان کی صرف چند مثالیں بیان کی گئی ہیں نہ کہ