صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 712
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات ہو میں اسلام قبول کرتا ہوں تو تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ تم یہ کہتے کہ تم مسلمان نہیں۔اسامہ بن زید نے اپنی بات پر پھر اصرار کیا اور کہا یا رسول اللہ ! وہ تو یونہی باتیں بنارہا تھا ورنہ اسلام اس کے دل میں کہاں داخل ہوا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسامہ ! تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اس کا لا إلهَ إِلَّا اللہ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا اور تمہارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔اُسامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ناراضگی کو دیکھ کر اُس دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میں اس سے پہلے کا فر ہی ہوتا اور آج مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق ملتی تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے فعل کی وجہ سے اتنا دکھ نہ پہنچتا۔(سیر روحانی نمبر ۴، انوار العلوم، جلد ۱۹ صفحه ۵۲۴،۵۲۳) فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ : قاتل و مقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِيَّاتِ اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیت کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا۔قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے۔مثلاً ایک باپ اگر اپنے بچے کو تنبیہ کرتا ہو کہ تو مدرسہ جا کر پڑھ اور اتفاق سے کسی ایسی جگہ چوٹ لگ جاوے کہ بچہ مر جاوے تو دیکھا جاوے گا کہ یہ قتل عمد مستلزم سزا نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اس کی نیت بچے کو قتل کرنے کی نہ تھی تو ہر ایک کام میں نیت پر بہت بڑا انحصار ہے اسلام میں یہ مسئلہ بہت سے امور کو حل کر دیتا ہے۔“ الملفوظات، جلد ۲ صفحه ۳۸۶) بَاب : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى اَيُّهَا الَّذِينَ أمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے دے لوگو جو ایمان لائے ہو مقتولوں کا بدلہ لینا تم پر فرض کیا گیا ہے الْحُرُ بِالْحُرُ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْأُنثى آزاد ہو تو آزاد اور غلام ہو تو غلام اور عورت ہو تو بالأنثى فَمَن عُفِ لَهُ مِنْ أَخِيهِ عورت کو، جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ شَيْءٍ فَاتِبَاعَ بِالْمَعْرُوفِ وَ آدَاء إِلَيْهِ معاف کر دیا جائے تو پھر بھلائی سے مطالبہ کرنا ہو بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَ گا اور اچھی طرح اس کو ادا کرنا ہو گا یہ تمہارے