صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 711 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 711

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات زیر باب روایت ۶۸۷۲ میں ذکر ہے بَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محرقہ قبیلے کی طرف بھیجا۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: یہ لشکر رمضان کے مہینہ میں سات یا آٹھ ہجری میں بھیجا گیا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ جہینہ کا ایک قبیلہ ہے اس کا نام حرقہ اس لیے رکھا گیا کہ ان کے درمیان اور بنو مرہ بن عوف بن سعد کے درمیان جو جنگ ہوئی تھی اس جنگ میں بنو مرہ نے ان کو وہ تیر مارے جن پر آگ لگی ہوئی تھی جس سے یہ لوگ جل گئے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۳۶) قَالَ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ : آپ نے مجھ سے فرمایا: اسامہ کیا تم نے اس کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہنے کے بعد مار ڈالا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آپ کی زندگی کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو روشن کرتا ہے کہ آپ نے کبھی کسی ایسے شخص پر تیر نہیں چلایا جو مُجرم نہ ہو۔حکومتیں کئی بے قصوروں کو مار ڈالتی ہیں، کئی ایسے لوگوں کو بھی ان کے ہاتھوں نقصان پہنچ جاتا ہے جو بے گناہ ہوتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جو ایک کھلی کتاب کے طور پر تھی اس میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آتی کہ آپ کا تیر ایسے طور پر چلا ہو کہ کوئی بے گناہ اس کا شکار ہوا ہو۔صحابہ کرام سے بعض دفعہ ایسی غلطیاں ہوتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس کا علم ہوا آپ نے ان پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کو نہایت عزیز تھے ان کے باپ کو آپ نے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ایک غزوہ میں حضرت اسامہ شریک تھے کہ ایک مخالف کے تعاقب میں انہوں نے اپنا گھوڑا ڈال دیا جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اس نے کہا لا اله الا اللہ جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر حضرت اسامہ نے اُس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اُسے قتل کر دیا۔بعد میں کسی شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی، آپ حضرت اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تو نے کیوں مارا جب کہ وہ اسلام کا اقرار کر چکا تھا۔حضرت اسامہ نے کہا وہ جھوٹا اور دھوکے باز تھا وہ دل سے ایمان نہیں لایا صرف ڈر کے مارے اُس نے اسلام کا اقرار کیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ وہ سچے دل سے اسلام کا اظہار نہیں کر رہا تھا ؟ یعنی جب وہ کہہ رہا تھا کہ