صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 710 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 710

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۷ - كتاب الديات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔حَمَلَ عَلَيْنَا السّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا آپ نے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اُٹھائے تو وہ ہم رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ میں سے نہیں ہے۔اس حدیث کو حضرت ابو موسیٰ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه: ۷۰۷۰۔٦٨٧٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ :۶۸۷۵: عبد الرحمن بن مبارک نے ہم سے بیان الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ایوب اور یونس حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ نے ہم سے بیان کیا۔ان دونوں نے حسن (بصری) عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ذَهَبْتُ ہے، حسن نے احنف بن قیس سے روایت کی۔لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ اُنہوں نے کہا: میں گیا کہ اس شخص کی مددکروں تو فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا حضرت ابو بکرہ مجھ سے ملے اور پوچھنے لگے: تم الرَّجُلَ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ کہاں کا قصد کر رہے ہو؟ میں نے کہا: میں اس شخص کی مدد کروں گا۔اُنہوں نے کہا: لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ آپس میں مقابلہ کریں تو قاتل و مقتول دونوں يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ آگ میں ہوں گے۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى تو قاتل ہوا تو مقتول کا کیا گناہ ؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے مارنے پر حریص تھا۔قَتْلِ صَاحِبِهِ۔أطرافه : ۳۱، ۷۰۸۳- تشریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَ مَنْ أَحْيَاهَا: اللہ تعالی کا یہ فرمانا اور جو اسے زندہ کرے۔قال ابْن عَبَّاس مَنْ حَرَّمَ قَتَلَهَا إِلَّا بِحَقِّ فَكَانَمَا أَحْيَا النَّاس جميعًا۔حضرت ابن عباس نے کہا: مَنْ اخیاھا سے مراد ہے جس نے جان کے مار ڈالنے کو حرام قرار دیا سوائے اس کے کہ جائز طور پر اُسے مارا جائے تو گویا اُس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔