صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 703
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۰۳ ۸۷ - كتاب الديات إِذَا كَانَ رَجُلٌ { مُؤْمِنٌ } يُخْفِي نے حضرت مقداد سے فرمایا: اگر کوئی مؤمن شخص إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ کافر لوگوں کے ساتھ رہ کر اپنے ایمان کو چھپاتا ہو فَقَتَلْتَهُ فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي اور پھر وہ اپنے ایمان کو ظاہر کر دے اور تم اُس کو إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ۔مار ڈالو، تم بھی تو اسی طرح اس سے پہلے مکہ میں اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے۔وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو کسی مومن کو جان بوجھ مر قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہو گی۔امام بخاری کتاب الدیات کے باب نمبرا میں قتل عمد کے متعلق جو آیت لائے ہیں۔اس آیت میں قتل عمد کی دنیا میں کسی سزا کا ذکر نہیں بلکہ آخرت میں جہنم اور خدا تعالیٰ کی طرف سے لعنت یعنی دوری اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر ہے۔آخرت میں اس سے بڑی اور کوئی سزا نہیں ہے۔مگر کیا اسلام نے مقتل عمد کی دنیا میں کوئی سزا مقرر نہیں کی ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورة البقرة آيت ١٧٩ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ” در حقیقت یہی وہ آیت ہے جس میں قتل کی سزا کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قتل کی سزا قتل ہے۔اور یہ عام حکم ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے في القتلیٰ فرمایا ہے کہ مقتولوں کے متعلق یہ حکم ہے یہ کوئی سوال نہیں کہ وہ مقتول کون ہو۔اور کس قوم سے تعلق رکھتا ہو۔اس آیت کے سواقتل عمد کی دنیوی سزا کا ذکر قرآن کریم کی کسی اور آیت میں نہیں ہے پس یہی آیت ہے جس پر اسلامی فقہ کی بنیاد ہے اور اس میں مسلمان اور غیر مسلمان میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا۔" ( تفسير كبير، سورة البقرة ، زير آيت يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ ، جلد ۲ صفحه (۳۵۸) امام بخاری باب نمبرا میں دو آیات اور چھ روایات لائے ہیں جن میں قتل عمد کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔زیر باب روایات میں سے روایت ۶۸۶۱ میں مومنوں کی یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ کسی ایسے نفس کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔اور روایت نمبر ۶۸۶۲ میں ناحق خون یا قتل عمد کو ایسا گناہ قرار دیا گیا ہے جس کے ارتکاب سے مؤمن کی اپنے دین کی رو سے آزادی ختم ہو جاتی ہے۔اسلام انسانی جان کی حرمت اور تحفظ کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ حالت جنگ میں بھی ایک مسلمان پر حملہ آور اپنے حملے کے بعد کلمہ شہادت پڑھ لے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مسلمان کو جو ابا حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔جیسا کہ زیر باب روایت لفظ "مؤمن عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۴ صفحہ ۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔