صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 704
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۰۴ ۸۷ - كتاب الديات ۶۸۶۵ اور ۶۸۶۶ میں بیان کیا گیا ہے۔کلمہ شہادت ایسا مبارک کلمہ ہے جو منہ پر آتے ہی انسان کو تحفظ فراہم کر دیتا ہے اور رکسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ اس بحث میں پڑے کہ یہ کلمہ کہنے والا صرف زبان سے اقرار کرتا ہے یادل کی عزیمت اور پختہ یقین اس کے ساتھ شامل ہے۔یہ کلمہ وہ شجرہ طیبہ ہے کہ جو بھی اس کے سایہ میں آگیا وہ عافیت میں آگیا۔جیسا کہ فرمایا: أُمِرْتُ أَنْ أَقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ یہ اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے اور یہ کہ وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ دیں۔پس اگر وہ یہ کر لیں تو انہوں نے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچالیا، سوائے اس کے کہ جہاں اسلام ضروری قرار دیتا ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” یہ علامت بھی اپنی پوری شان کے ساتھ ہمیں صحابہ کے مقدس وجود میں جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔وہ اس حکم پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایسی اقوام سے برسرِ پیکار رہے جو بزور شمشیر اُن سے اپنا مذ ہب بدلوانا چاہتی تھیں۔پھر بھی اُن کی تلوار صرف اُن افراد پر اُٹھتی تھی جو عملاً جنگ میں شامل ہوں کسی عورت کسی بچے کسی بوڑھے کسی راہب اور کسی پنڈت یا پادری پر نہیں اٹھتی تھی۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام صرف لڑنے والے افراد سے جنگ کرنا جائز قرار دیتا ہے دوسرے افراد کو قتل کرنا خواہ وہ دشمن قوم سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں جائز قرار نہیں دیتا۔آج دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں جو اپنے آپ کو عدل و انصاف کا علمبر دار قرار دیتی ہیں اور جن کا وجود امنِ عالم کے قیام کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اُن کی یہ کیفیت ہے کہ وہ دشمن اقوام کو ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں سے ہلاک کرنے کی دھمکی دیتی رہتی ہیں بلکہ عملاً گذشتہ جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں بے گناہ جاپانی مردوں اور عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اسے امنِ عالم کے قیام کیلئے ایک بڑا بھاری کارنامہ قرار دے کر اسے سراہا گیا۔لیکن رسول کریم صلی ا یم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں کہیں ایسا ظلم دکھائی نہیں دیتا کہ برسرِ پیکار ہونے کی حالت میں بھی انہوں نے بے گناہ مردوں اور عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کیا ہو۔مگر یہ لاکھوں افراد کے ناجائز خون سے اپنے ہاتھ رنگنے (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ، روایت نمبر ۲۵)